امریکا روس کشیدگی میں کمی کا امکان، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

58

 

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے اور دو طرفہ رابطوں کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے یہ اتفاق بحیرۂ اسود کے کنارے واقع روس کے سیاحتی مقام سوچی میں ہونے والی ملاقات میں کیا۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران، شمالی کوریا، یوکرائن، شام اور وینزویلا کی صورتِ حال سمیت کئی بین الاقوامی تنازعات اور دو طرفہ امور پر بات چیت کی، لیکن بات چیت کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کسی مسئلے پر کوئی بریک تھرو نہیں ہو سکا۔ البتہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکا روس کے ساتھ اپنے تعلق کو از سر نو استوار کرنا چاہتا ہے اور اسے امید ہے کہ روسی حکام بھی اس معاملے میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور تعلقات میں بہتری کا فائدہ دونوں ممالک کو ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آج ہونے والی بات چیت اسی سمت میں ایک درست قدم تھا۔ مائیک پومپیو منگل کو روس پہنچے تھے اور ان کا روس کا یہ پہلا باضابطہ دورہ تھا۔ اپنے روسی ہم منصب سے مذاکرات کے بعد انہوں نے سوچی میں صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ملاقات کی۔ روسی حکام کے مطابق ملاقات میں صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ انہیں بھی صدر ٹرمپ سے گفتگو کر کے یہ لگا ہے کہ وہ واقعی امریکا اور روس کے تعلقات کو از سر نو استوار کرنا چاہتے ہیں اور تنازعات کے حل کے لیے رابطے بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ باضابطہ اور کثیر جہتی تعلقات چاہتا ہے اور انہیں امید ہے کہ اب اس مقصد کے لیے ماحول سازگار ہو رہا ہے۔ تاہم روسی صدر کے ساتھ ملاقات سے قبل پریس کانفرنس کے دوران پومپیو نے روسی حکومت کے متعلق امریکا کے خدشات کا ذکر کیا تھا۔