شام میں وحشیانہ بمباری، مزید 22 شہری شہید

55
ادلب: روسی اور اسدی افواج کی بم باری کے نتیجے میں ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی ہے
ادلب: روسی اور اسدی افواج کی بم باری کے نتیجے میں ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی ہے

 

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال میں اسدی اور روسی فوج کی وحشیانہ بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق منگل اور بدھ کے روز حلب اور ادلب صوبوں میں کئی مقامات پر درجنوں فضائی حملے کیے گئے۔ منگل کی شام جنگی طیاروں نے حلب کے نیرب کیمپ نامی علاقے میں شدید بم باری کی، جس کے نتیجے میں 3بچوں اور 2خواتین سمیت 10شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس علاقے میں ملک کے طول و عرض سے آئے بے گھر شہری پناہ گزیں ہیں۔ دوسرا حملہ حلب شہر میں توپ خانے سے کیا گیا، جس میں ایک مرد اور ایک عورت جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح بدھ کے روز حلب اور ادلب میں مختلف پُرتشدد واقعات میں 10شہری مارے گئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق اسدی فوج نے جنگی طیاروں اور توپ خانے سے مختلف علاقوں پر گولے داغے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے اواخر سے ادلب اور اس سے متصل حما صوبے کے سرحدی علاقوں میں اسدی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اسدی فوج ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بدھ کے روز جبل شحشبو اور سہل الغاب کے علاقوں میں شدید لڑائی ہوئی۔ اس دوران طرفین کے 22افراد مارے گئے۔ ادھر ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ شام کے صوبے ادلب سے متعلق ورکنگ گروپ کے فوری اجلاس کے موضوع پر ترکی اور روس کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا ہے۔چاوش اولو نے رومانین قومی اسمبلی کے یورپی امور کمیشن کے سربراہ اینجل تیلوار کے ساتھ ملاقات کے بعد یورپی یونین ڈائریکٹوریٹ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ صدر رجب طیب اردوان اور روس کے صدر ولادیمیرپیوٹن کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے چاوش اولو نے کہا کہ ہم نے ادلب کے موضوع پر کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اسدانتظامیہ کے روّیے میں تبدیلی اور حملے بند ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب ایک طرف سے سیاسی عمل پر بات ہو رہی ہے اور آئینی کمیشن کے قیام کے لیے بڑے پیمانے پر پیش رفت ہو چکی ہے، زمین پر اسد انتظامیہ کے حملے ہر چیز کو تباہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا پہلے ان حملوں کو روکنا ضروری ہے۔ شام میں دو طرفہ خلاف ورزیوں کے دعووں سے متعلق بات کرتے ہوئے چاوش اولو نے کہا کہ ان دعووں کو دلائل کے ساتھ مذاکراتی میز پر لانے اور ان کا جائزہ لینے کے لیے ورکنگ گروپ کے فوری قیام کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کے حملے رکوانے کے لیے ترکی کا موقف واضح ہونے پر زور دیتے ہوئے چاوش اولو نے کہا کہ انتظامیہ کو حملوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔