خلیج فارس میں نئی کشیدگی ۔۔۔ طبل جنگ بجے گا یا نقارہ امن؟

151

 

منیب حسین

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر عرب ایران کشیدگی عروج پر ہے، جس میں امریکا حسب معمول جلتی پر تیل چھڑک رہا ہے۔ کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز کے قریب اتوار کے روز آئل ٹینکرز سمیت 4 تجارتی جہازوں پر حملہ کیا گیا، جن میں 2 سعودی تھے۔ ساتھ ہی ایرانیوں کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی بندرگاہ پر دھماکے ہوئے ہیں۔ پھر منگل کے روز یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے وسط میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کردیے۔ نشانہ بنائی گئی 1200 کلومیٹر طویل ابقیق ینبع پائپ لائن خلیج فارس کے ساتھ سعودی عرب کے تیل سے مالا مال مشرقی علاقے سے مغرب میں بحیرۂ قلزم کی بندرگاہ ینبع کے درمیان بچھی ہوئی ہے اور اس سے روزانہ 50 لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔ حوثیوں نے بارود سے لیس 7 ڈرون طیاروں کے ذریعے سعودی دارالحکومت ریاض سے 220 اور 380 کلومیٹر کی مسافت پر دوادمی اور عفیف کے پمپنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں دونوں تنصیبات کو نقصان پہنچا اور تیل کی ترسیل رک گئی۔ یہ صورت حال خطے کے ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے، تاہم دیکھا جائے تو اس کے پیچھے امریکا کا کھڑا کیا ہوا ’’ایران کے خطرے‘‘ کا ہوَّا ہے۔
اس صورت حال کو سمجھنے سے قبل پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس کشیدگی کا آغاز گزشتہ برس اس وقت ہوا کہ جب ٹرمپ نے 2015ء میں 6 عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ماضی میں تہران پر عائد کردہ پابندیاں بحال کردیں اور ایرانی تیل کی برآمد روک دی۔ جواب میں ایران نے دھمکی دی کہ دنیا اس کا تیل نہیں خرید سکتی تو وہ بھی خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت نہیں ہونے دے گا۔ خیال رہے کہ تیل کی برآمد کے حوالے سے یہ دنیا کا مصروف ترین راستہ ہے، جس سے ایران کے علاوہ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنا تیل برآمد کرتے ہیں۔
ایران کی دھمکی کے بعد امریکا نے 50 جنگی طیاروں اور 6 ہزار عملے پر مشتمل اپنا بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن خلیج بھیج دیا۔ اس کے ساتھ ایک جنگی جہاز، پیڑیاٹ میزائل سسٹم، بی52 بمبار اور ایف16 و ایف35 لڑاکا طیارے بھی پہنچا دیے۔ ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کو ایرانی خطرے سے تحفظ دینا ہے۔ لیکن بظاہر امریکا نے یہ سب سامانِ حرب اس لیے بھیجا ہے کہ وہ اس کے اخراجات کی مد میں سعودی عرب سے مزید مال وصول کرسکے۔ یا د رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں وسکونسن شہر میں ایک ریلی کے دوران اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ ’’سعودی عرب بہت امیر ملک ہے۔ اس لیے ہم اس کا تحفظ کرتے ہیں۔ حال ہی میں اس نے ہم سے 450 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے۔ ہم ان کے لیے اپنا سب کچھ اس لیے گنوا رہے ہیں کہ وہ ہمیں پیسے دیتے ہیں‘‘۔
مشرقِ وسطیٰ میں چند روز کے دوران ہونے والی اس پیش رفت اور واقعات کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ خوب بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔ ایسا باور کرایا جا رہا ہے کہ وہاں طبل جنگ بجنے کو ہے، تاہم سنجیدہ عرب تجزیہ کار اسے ڈراما قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے ایران سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے، جب کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ گائیں ہیں، جو پیٹرو ڈالر نامی مہنگا ترین دودھ دیتی ہیں، اس لیے امریکا کبھی بھی جنگ کرکے ان دونوں کو ذبح نہیں کرے گا۔
اس تجزیے سے اتفاق کیے بغیر چارہ بھی نہیں، کیوں کہ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی اس خبر کو بھی جھوٹ قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اپنے ایک لاکھ 20 ہزار فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کررہا ہے۔ جب کہ ایرانی رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے بھی امریکا کے ساتھ جنگ کا امکان مسترد کیا۔
ویسے بھی ٹرمپ کے دور میں امریکا کسی نئی جنگ میں نہیں کودے گا، کیوں کہ ٹرمپ ایک بزنس مین ہیں اور کاروباری حکمران دوست بناتے ہیں دشمن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے شمالی کوریا، روس اور چین کو بہت حد تک رام کیا ہے۔ نیز ٹرمپ نے صدر بننے سے قبل اپنے حامیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکا کو کسی نئی جنگ میں نہیں جھونکیں گے۔ ہم نے دیکھا بھی کہ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد شام اور عراق میں اپنا فوجی کردار انتہائی محدود کیا، اور افغانستان سے انخلا کی سنجیدہ بات چیت شروع کی۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی جنگ یا ایران عرب لڑائی بظاہر مشکل ہے اور یہ چند دن کا شور و غوغا ہے، جس کا مقصد صرف امریکا کی جیب گرم کرنا ہے۔