سوڈان میں اقتدار عوامی حکومت کو دینے پر اتفاق

91
خرطوم: اقتدار پر قابض فوجی عبوری کونسل اور حزب اختلاف کی انقلابی قوتوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے پر شہری جشن منا رہے ہیں
خرطوم: اقتدار پر قابض فوجی عبوری کونسل اور حزب اختلاف کی انقلابی قوتوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے پر شہری جشن منا رہے ہیں

 

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں پرتشدد جھڑپوں اور امریکا کی جانب سے اپوزیشن کی حمایت کے بعد فوجی قیادت اور احتجاجی رہنماؤں کے درمیان اقتدار عوامی حکومت کے حوالے کرنے پر اتفاق ہوگیا۔ عبوری فوجی کونسل کے مرکزی رکن لیفٹیننٹ جنرل یاسرعطا کا کہنا تھاکہ عوامی اور فوجی رہنماؤں کے درمیان 3سال کی عبوری مدت پر اتفاق کر لیا گیاہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خود مختار کونسل کے قیام اور نئے نظام کے حوالے سے حتمی معاہدہ کر لیا جائے گا۔ مظاہرین کی تحریک ایف ڈی ایف سی کے رکن ساتیع حج کا کہنا تھاکہ ہم جلد ہی ایک معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد تک ایک نئی کونسل ملک کو چلائے گی۔ جنرل یاسر عطا کا کہنا تھا کہ عبوری دور کے دوران 300 ارکان کی ایک پارلیمان تشکیل دی جائے گی اور اس میں 67 فیصد ارکان کا تعلق احتجاجی تحریک کے گروہوں سے ہو گا ،جب کہ باقی ارکان مختلف سیاسی جماعتوں کے ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی 6ماہ جنگ زدہ علاقوں میں سرگرم باغیوں کے ساتھ امن معاہدے کرنے کے لیے وقف کیے جائیں گے۔ قبل ازیں سوڈان کے اپوزیشن گروپ نے عبوری ملٹری کونسل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ جان بوجھ کر اقتدار عوامی حکومت کے حوالے کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں مظاہرین کے خلاف پرتشدد حملوں کا الزام بھی ملٹری کونسل پر عائد کیا گیا۔ ایف ڈی ایف سی کے رکن کے مطابق انقلاب مخالف قوتیں مذاکرات میں پیش رفت سے ناخوش ہیں۔ سوڈان میں امریکا اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کر رہا ہے اور اس کی طرف سے 13 مئی کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کا الزام بھی عبوری فوجی کونسل پر عائد کیا گیا ہے۔