سری لنکا: فساد کے بعد کرفیو جاری‘ مسلمانوں میں خوف و ہراس

120
سری لنکا: حکام بلوائیوں کے حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کے باہر تحقیقات کررہے ہیں‘ مقامی مسلمان پریشان کھڑے ہیں
سری لنکا: حکام بلوائیوں کے حملے کا نشانہ بننے والی مسجد کے باہر تحقیقات کررہے ہیں‘ مقامی مسلمان پریشان کھڑے ہیں

کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر بم دھماکوں کے چند ہفتوں بعد شروع ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے دوران دوسری شب بھی ملک گیر سطح پر کرفیو نافذ رہا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کے روز پر تشدد واقعات میں ایک مسلمان شخص کو چاقو مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جب کہ مسلمانوں کی املاک اور دکانوں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ مساجد کی بے حرمتی بھی کی گئی۔ پولیس نے اب تک 60 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں بدھ مذہب کے انتہائی دائیں بازو کے گروپ کے رہنما بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شمال مغربی صوبے میں جہاں زیادہ خطرناک فسادات جاری ہیں، منگل سے کرفیو نافذ ہے اور حالات کی مناسبت سے تاحکم ثانی جاری رہے گا۔ حکام کے مطابق کشیدگی کم ہونے کی وجہ سے بعض علاقوں سے کرفیو جزوی طور ختم بھی کیا گیا ہے، تاہم اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں پولیس نے دارالحکومت کولمبو کے شمالی صوبے میں سیکڑوں فسادیوں کو پسپا کرنے کے لیے کئی علاقوں میں ہوائی فائرنگ کرنے کے علاوہ آنسو گیس بھی استعمال کی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک مسلمان تاجر نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں مسلم برادری بے یقینی اور مجرمانہ ماحول کے درمیان خوف کے سائے میں جی رہی ہے اور خدشہ ہے کہ اگر حکومت نے ان نسلی تشدد کے خلاف بروقت اور موثر کارروائی نہ کی تو مسلمانوں پر مزید حملے ہوں گے۔