عبدالرحمن مکی کی گرفتاری قابل مذمت فوری رہا کیا جائے ، ملی یکجہتی کونسل

31

لاہور(نمائندہ جسارت) ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی قائدین نے ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر اور جماعۃ الدعوہ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جید علماکرام کی گرفتاریاں اور محب وطن جماعتوں پر پابندیاںبھارت وامریکا کی خوشنودی کے لیے لگائی جارہی ہیں۔سابق حکمرانوں کو مودی کا یار کہنے والے خود بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ حکومت کی بزدلانہ پالیسیاں پوری دنیا میں پاکستان کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بلند ہونے والی ہر آواز کو سازش کے تحت خاموش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، علامہ سید ساجدعلی نقوی، لیاقت بلوچ، محمد یعقوب شیخ ودیگر نے کہاکہ حکمران مساجد و مدارس اور مذہبی جماعتوں کے خلاف بلا جواز اقدامات اٹھانے کے سبب تیزی سے عوامی حمایت کھو رہے ہیں۔ ان سے نہ تو ملک میں مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ بیرونی دبائو کا صحیح معنوں میں مقابلہ کر پا رہے ہیں۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوںنے کہاکہ حافظ عبدالرحمن مکی جیسے محب وطن رہنمائوںکی گرفتاریوں سے بھی بھارت و امریکا خوش نہیں ہوںگے اور ان کے مطالبات دن بدن بڑھتے جائیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر دینی جماعتوں پر پابندیاں اور جید علماکرام کی گرفتاریوں کی باتیں محض ڈھونگ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکومتی ذمے داران خود شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ حافظ عبدالرحمن مکی کو فی الفور رہا کیا جائے۔