بلوچستان ‘اپیکاکی صوبے بھر کے دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال

22

کو ئٹہ (نمائندہ جسارت) اپیکا بلوچستان کی کوئٹہ سمیت صوبے بھر کے سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال، ہڑتال کے باعث دفتری امور کی انجام دہی نہ ہوسکی۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صوبائی ترجمان غلام سرور مینگل کے مطابق چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع مستونگ، قلات، خضدار، لسبیلہ، کیچ، پنجگور، آواران، واشک ، خاران، چاغی، نوشکی، پشین، زیارت، قلعہ عبداللہ، لورالائی، ژوب، شیرانی، سبی، بولان، نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور بارکھان کے دفاتر میں ہڑتال کی گئی۔ تنظیم کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ کی ضلع کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری و دیگر سے ملاقات۔ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ٹیکنیکل اسٹاف کو اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی تھی لیکن ایک مخصوص لابی ہمیشہ ایپکا کو سر اپا احتجاج بنا کر سرکار ی مشینری کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمارے جائز مطالبات کی راہ میںروڑے اٹکا رہی ہے۔ ایپکا کے ورکرز شدید مہنگائی اور قلیل تنخواہوں کے باوجود سرکاری مشینری کو چلارہے ہیں، بہ حالت مجبوری حکمرانوں کے وعدہ وفانہ ہونے پراحتجاج کی راہ پر چل پڑے ہیں، اگر ہمارے مطالبات پر عمل درآمدکے لیے مذاکرات نہیں کیے گئے تو پھر ایپکا بجٹ والے دن اسمبلی کے سامنے بھر پور احتجاج کریگی اور اپنے مسائل حل کرائے گی۔بصورت دیگر عید کے بعد احتجاج میں مزید سختی لائیں گے اور مسائل کے حل تک احتجاج جاری رہے گا۔