پولیس اصلاحات پر ڈیڈلاک برقرار اپوزیشن چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھے گی

63

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ پولیس میں اصلاحات کے معاملے پرحکومت اوراپوزیشن میں لفظی جنگ تیز ہوگئی۔وزیراعلیٰ اورآئی جی سندھ کے صوابدیدی اختیارات کے معاملے پر حکمران پیپلزپارٹی اورحزب اختلاف میں ڈیڈ لاک برقرارہے،پولیس اہلکاروں کی بھرتیوں کے طریقہ کارپربھی اختلافات شدید ہوگئے، اپوزیشن جماعتوں نے پولیس اصلاحات بل کومسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کوخط لکھنے کا اعلان کردیا ہے۔سندھ پولیس میں اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پولیس ایکٹ میں ترامیم کا معاملہ حکمران پیپلزپارٹی اوراپوزیشن جماعتوں کے مابین متنازع ہوگیا ہے جبکہ پولیس اصلاحات کے معاملے پراپنے اپنے موقف کے دفاع کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں سیاسی دلائل کی جنگ بھی تیز ہوگئی ہے۔بدھ کوسندھ اسمبلی میں پولیس اصلاحات کے ترمیمی بل پرمشاورت کے لیے سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس ایک بارپھربے نتیجہ رہا اوراپوزیشن جماعتوں نے حکمران پیپلزپارٹی پرپولیس اصلاحات ترمیمی بل کے مسودے میں ہیرا پھیری اورٹیمپرنگ کا الزام عاید کرتے ہوئے اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔بدھ کوسلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت ڈیڈلاک پیدا ہوگیا جب پیپلزپارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کوگزشتہ6 اجلاسوں کے منٹس فراہم نہیں کیے گئے۔ علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کی جانب سے سندھ پولیس میں بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ماتحت کرنے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سندھ پولیس میں بھرتیاں پی ایس ٹی کے ذریعے کرنے کے معاملے پرتلخی پیدا ہوئی۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ جب پولیس آرڈر ترمیمی بل ایوان میں متعارف ہواتو ہمارا ماتھا ٹھنکا تھا مگر اب جس طرح حکومت پولیس اختیارات کے معاملے پربار بار موقف بدل رہی ہے یہ واضح ہوگیا کہ سندھ کارڈ کھیلنے والوں کی طرف سے منظم سازش ہورہی ہے،پہلے پولیس آرڈر2000 ء کی بحالی کی بات کی گئی،اب پنجاب کا نام لے کر الگ قانون سازی کا جوازگھڑلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ اور پنجاب کے قانون میں واضح فرق ہے،پیپلزپارٹی غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقہ کارکے تحت قانون بنانے جارہی ہے جس کے خلاف ہم عدالت جائیں گے اورسول سوسائٹی بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔ایم کیو ایم کے خواجہ اظہارالحسن کا کہنا تھا کہ پولیس اصلاحات کے لیے اپوزیشن کو آن بورڈ لینے کا کہہ کر پیپلزپارٹی نے تصویری نمائش کی ،عوام کے مفادات پر عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا گیا،اپوزیشن نے اپنا موقف دیا تو اس کے منٹس فراہم نہ کرکے دھوکا دہی کی گئی ۔شہریارمہرنے کہاکہ پیپلزپارٹی2002ء کے نام پر 2011 ء کا پولیس نظام لانا چاہتی ہے ،پیپلزپارٹی کے ترمیمی بل کے تحت آئی جی سندھ کی تبدیلی اورڈی ایس پی سے پولیس کانسٹیبل کی بھرتی تک تمام اختیارات سندھ حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اپوزیشن رہنمائوں نے اعلان کیا کہ پولیس اصلاحات کے معاملے پرسندھ حکومت جومن پسند قانون بنانا چاہتی ہے اس کے متعلق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کوخط لکھ کرحقائق سے آگاہ کریں گے جبکہ عدالت میں زیرسماعت کیس میں فریق بھی بننا پڑا تو پیپلزپارٹی کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔علاوہ ازیںمشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب ،صوبائی وزیر زراعت اور پولیس سلیکٹ کمیٹی کے کنوینرمحمد اسماعیل راہو اورصوبائی وزیربلدیات سعید غنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی نے پولیس ایکٹ کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ سلیکٹ کمیٹی کے پاس کردہ مسودے پر پی ٹی آئی ،ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے 90فیصد تجاویزسے اتفاق کیا ہے ، مجوزہ پولیس قانون چیک اینڈ بیلنس کے لیے ہوگا ،صوبائی اور ضلعی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن کے قیام کے بعدپولیس کا احتساب ہو سکے گا ۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بدھ کوسلیکٹ کمیٹی کا7 واں اجلاس تھا،ہم دل سے چاہتے تھے کہ پولیس آرڈر اصل حالت میں بحال کریں،ہم نے اپوزیشن ، اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کے ساتھ بھی اجلاس کیا اوران کی تجاویز سنی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپوزیشن کے تعاون کے شکر گزار ہیں جنہوں نے تعاون کیا اور ہمیں سنا بھی،آج بھی اجلاس میں زیادہ تر اپوزیشن کی تجاویز سنی اور مانی گئیں، اپوزیشن کے ساتھ اختلاف پر مبنی صرف 4،5 نکات تھے، ایک سلیکشن پینل اور ایس ایس پیز کی تقرری اعتراض پر مشتمل تھی،ہم اصل بل کے ساتھ جانا چاہتے تھے اپوزیشن والے جو بھی تجاویز لائے وہ بھی ہم سنی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا محدود اسٹاف ہے، 2 بجے تک رات کو بیٹھ کر منٹس بنائے گئے ہیں،اپوزیشن کو 3 اجلاس کے منٹس دیے ،باقی رہ جانے والے بھی دینے کی بات کی،ہم نے منٹس پر دستخط بھی نہیں لیے، ہمیں کلاز بائے کلاز پڑھائے بھی گئے جو پڑھے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے عدالتی احکامات کی کاپیاں مانگی جارہی تھیں،ہم نے حتی الامکان اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی، ہم نے قانون کو فائنل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔پولیس ایکٹ 2019ء اسمبلی سے پاس ہونے کے 60 روز کے اندر ضلعی وصوبائی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا،سلیکٹ کمیٹی نے پولیس ایکٹ کو حتمی شکل دی ہے جس کے بعد اسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔