حکومت نے جنوبی پنجاب صوبے کیلئے ن لیگ سے مدد مانگ لی

59

ملتان ( آن لائن ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سمیت تما م جما عتوں سے مدد کرنے کی درخواست کرتے ہو ئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے آئین میں ترمیم درکار ہے۔ نیا صوبہ ملتان، بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی خان کے اضلاع پر مشتمل ہوگا۔ آبادی کی بنیاد پر نشستیں اور سینیٹ میں نمائندگی ملے گی ۔ ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 3 اراکین اسمبلی نے جنوبی صوبہ پنجاب سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا جسے قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بل پر مشاورت کرنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کمیٹی بنانے کا اختیار ایوان نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو دے دیا ۔جنوبی پنجاب صوبے کے لیے آئین کے آٹیکل 1، 51، 59، 106، 198 اور 218 میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے ایوان میں 2 تہائی اکثریت ہونی ضروری ہے اور حکومت کے پاس 2 تہائی اکثریت موجود نہیں ہے۔ بل پر مشاورت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے رائے طلب کی تو انہوں نے مثبت جواب دیا جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے بتایا کہ وہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور اس موضوع کو آگے بڑھانے کے لیے تبادلہ خیال کریں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کے حوالے سے ایوان میں جو جماعتیں اتفاق کرتی ہیں انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔ اس وقت پارلیمنٹ میں کسی بھی جماعت کے پاس 2 تہائی اکثریت نہیں ہے۔ اس وقت ایوان میں سب اچھا سمجھتے ہیں اور اچھی پیشرفت قرار دیا ہے تو ہم چاہتے ہیںسب اس نیکی میں شامل ہوجائیں اور اس کا سہرا تمام جماعتوں کو جائے۔انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنماؤں سے درخواست کی کہ آپ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بننے دیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی 3 اضلاع پر مشتمل ایک اور صوبے کا قیام چاہتے ہیں جو تکنیکی طور پر درست نہیں ہے تاہم میری درخواست ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صوبہ جنوبی پنجاب ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اضلاع پر مشتمل ہوگا ۔تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اپنے وعدے پر پیش رفت کی اور قومی اسمبلی میں آئینی ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے۔ ہم نے جنو بی پنجاب کے لو گوں کو الگ تشخص دینے کا وعدہ کیا تھا اب یہ وعدہ تکمیل کی طرف گامزن ہے ۔