ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کیلیے نوجوانوں کوتیارکرنا ناگزیر ہے، رومینہ خورشید

78

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قومی اسمبلی کی رکن رومینہ خورشید عالم نے کہا ہے کہ ہمارے پاک وطن کی دشمن قوتیں ہمارے ملک کی سلامتی کیخلاف مسلسل گھناؤنی سازشیں کررہی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا پاک اپنی تاریخ کے انتہائی حساس ترین دور سے گزررہا ہے، پاکستان پر مسلط کردہ ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار سے خبردار رہنے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، اس لیے ہمیں اپنے ملک کے نوجوانوں کو دشمن کی چالوں سے خبردار کرتے ہوئے انہیں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بیدار، منظم اور متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں پرامن معاشرہ کے قیام میں اساتذہ کے کردار، سائبر سیکورٹی کے اقدامات اور انٹرنیٹ کے محفوظ طریقہ استعمال کے بارے میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ میں رفاہ یونیورسٹی کے مین کیمپس کے فیکلٹی ممبرز اور طلبہ نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔ قومی اسمبلی کی رکن رومینہ خورشید عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا ملک پاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت اوردنیا کی عظیم ترین عسکری قوت کا حامل ملک ہے اور ہماری افواج وطن عزیز کے دفاع و استحکام کے لیے پورے ملی جوش و جذبہ سے اپنا عظیم ترین فریضہ سرانجام دے رہی ہیں جبکہ ہمارے ملک کی دفاعی ایجنسیاں بھی دشمن ممالک کی تمام تر سازشوں کو بروقت بے نقاب کرنیکا شاندار ریکارڈ رکھتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام دشمن ممالک ہمارے ملک کی بہادر افواج اور آئی ایس آئی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دورمیں جنگوں کے انداز بدل گئے ہیں اور روایتی محاذوں کے بجائے اب دوسرے محاذوں پر جنگیں لڑی جارہی ہیں اورپاکستان کے دشمن ممالک ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار مسلط کرکے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے سرگرم ہیں، اس لیے ہمیں بھی اپنے دشمن کا ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار سمیت دوسرے تمام محاذوں پر مقابلہ کرنا ہوگا جس کے لیے ہمیں اپنی قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنا ہوگا اور انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ موجودہ دورمیں دشمن کسی قوم کو نقصان پہنچانے کے لیے کس قسم کے حربے اور ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کی اہمیت وافادیت بیان کرتے ہوئے امن، اتحاد، برداشت اور بھائی چارے سمیت پیغام پاکستان کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی، اس اہم ورکشاپ کے دوسرے حصے میں پروفیسر ڈاکٹر عارف الرحمن نے شرکاء کو بتایا کہ موجودہ دورجدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور عصر حاضر کی جدید ٹیکنالوجی نوجوانوں پر اپنے گہرے اثرات مرتب کررہی ہے، سوشل میڈیا پر فیس بک، ٹوئٹر اور وٹس ایپ کے ذریعے صارفین کی ذاتی معلومات کو انکی اجازت کے بغیر غلط طور پراستعمال کیا جارہا ہے اور جب ہمارے نوجوان مابعد نتائج اور اثرات سے بے خبر ہوکر فیس بک اور سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور لوکیشن وغیرہ شیئر کرتے ہیں تو اس سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کے نقصانات سے خبردار کرنیکی اشد ضرورت ہے۔ دیگر مقررین نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں انٹرنیٹ پر ایسا مواد شیئر کررہی ہیں، موجودہ سائنسی دور میں نوجوان نسل کے لیے آگاہی مہم چلاکرجنونی انتہاء پسندوں کے غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہونیوالے نوجوانوں کو درپیش خطرات اور گمراہی سے بچانا ہوگا جس کے لیے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ طریقہ استعمال سے آگاہ کرنا اشد ضروری ہے۔ مقررین نے کہا کہ سائبر سیکورٹی کے خطرات پر قابو پانے کے لیے اساتذہ اور والدین کو اپنے طلبہ اور بچوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں اس سے بچاؤ کے بارے میں تدابیر سے آگاہ کرنا چاہیے۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے۔