ایوب خان سے اب تک تمام حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرض لیا، عمران بخاری

40

اسلام آباد (نامہ نگار) اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی فنانس سیکرٹری سید عمران بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 1965ء سے اب تک مجموعی طور پر 53,3778 ارب روپے کا قرضہ لے چکا ہے، ہر حکومت نے یہی کہا کہ یہ آخری قرضہ ہے۔ انہوں نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ تاریخی لحاظ سے ابتدا جنرل ایوب خان کے دور سے ہوئی جب پہلا قرضہ 37.5 ملین روپے کا حاصل کیا گیا۔ دوسری بار ایوب خان ہی کے دور 1968ء میں 75 ملین روپے کا قرضہ لیا گیا۔ پیپلزپارٹی نے اپنے پہلے دور میں 1973ء میں 74 ملین اور 1977ء میں 230 ملین روپے کا قرضہ لیا۔ آئی ایم ایف سے قرضے کا یہ تسلسل ضیاء الحق کے دور میں بھی برقرار رہا اور 1980ء میں 1.2 ارب ڈالر کا قرضہ لیا گیا اسی سال دوبارہ 919 ملین ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔ پیپلزپارٹی نے بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں 1994,1988ء اور 1995ء میں مجموعی 1.8213 ارب روپے کا قرضہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں 1997ء میں 1.13 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے دور حکومت میں آئی ایم ایف کے قرضے پر تکیہ کیا اور 2000ء اور 2001ء میں ایک ارب 465 ملین ڈالر کا قرضہ لیا۔ پھر پیپلزپارٹی نے آصف زرداری کے دور حکومت 2008ء میں اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف سے رجوع کیا اور 7.2 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ نوازشریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں بھی آئی ایم ایف کے قرضے کو ملکی معیشت کا سہارا بنایا اور 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد 4.3 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ انہوں نے 2014ء اور 2015ء میں بھی مجموعی 24.9 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ اب کشکول توڑنے کے اعلانات کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو بھی اپنے دور حکومت کے ابتدائی 8 مہینوں میں ہی قرض کیلیے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آئوٹ پیکیج کا معاہدہ کرکے عوام پر مہنگائی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔