مدارس پر چھاپے، علمائے کرام کا جمعہ کواحتجاج کا اعلان

81

اسلام آباد(صباح نیوز)دینی مدارس پر چھاپوں سے مدارس مشکوک ،طلبہ ہراساں اور والدین پریشان ہوتے ہیں، مذاکرات کے باوجود چھاپے اور کوائف طلبی افسوسناک اور مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے، مدارس اور حکومت کے مابین اعتماد کی فضا کو خراب کرنے والے عناصر اور اہلکاروں کی چھان بین کی جائے کہ وہ کس کے ایجنڈے پرکام کر رہے ہیں، اگر حکمرانوں نے اپنی روش نہ بدلی تو راست اقدام پر مجبور ہوں گے، آئندہ جمعہ یوم احتجاج کے طور پرمنایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم پنجاب مولانا قاضی عبدالرشید،مولانا ظہور احمد علوی،مولانا نذیر فاروقی،مولانا عبدالقدوس محمدی،مولانا ادریس حقانی،مولانا قاری سہیل عباسی،مولانا عبدالکریم ،مولانا بشیر احمد اور دیگر نے جامعہ محمدیہ میں علما کے اجلاس اور بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت مذاکرات کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف رات ایک بجے پولیس اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری نے بہارہ کہو کے جامعہ گلشن عمر پر چھاپہ مارا،اساتذہ کرام کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا،چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کیا،سی سی ٹی وی کیمروں سے چھاپے کی وڈیوز ڈیلیٹ کرائیں جس کے نتیجے میں اہل علاقہ اور علما و طلبہ اور اہل مدارس میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے ہم قومی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اس لیے اگر کسی ادارے سے کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں بتایا جائے ہم خود اس کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن اس طرح رات کی تاریکی میں دشمن ممالک کی طرح مدارس پر دھاوا بولنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے،اس سے عوام الناس کی نظر میں مدارس مشکوک،اساتذہ طلبہ ہراساں اور والدین پریشان ہوجاتے ہیں۔علما کرام نے کہا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کر رہی ہے اور دوسری طرف چھاپوں اور کوائف طلبی کا سلسلہ بدستور جاری ہے کل ہی راولپنڈی کے مدرسہ معاذ بن جبل میں کوائف نامے تقسیم کیے گئے اور جلد پر کر کے جمع نہ کرانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔وفاق المدارس کے مقامی ذمے داران نے کہا کہ جب بھی حکومت اور مدارس کے مابین اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے فورا کچھ اہلکار اسے سبوتاژ کر کے رکھ دیتے ہیں ایسے سرکاری کارندوں کی نشاندہی کی جائے اور دیکھا جائے کہ وہ کس کے ایجنڈے پر مصروف عمل ہیں،وفاق المدارس کے ذمے داران نے جمعہ کو یوم احتجاج کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ہم راست اقدام پر مجبور ہوں گے۔