پاکستانی سرحدپر الاٹ کی گئی زمینیں واگزار کرانے کی ہدایت

38

اسلام آباد( آن لائن ) عدالت عظمیٰ میں بارڈر ایریا سیکورٹی کمیٹی کی اپیلوں پر سماعت ، عدالت نے غیر متعلقہ افراد سمیت اراکین سیکور ٹی کمیٹی کو الاٹ کی گئی زمینیں واگزار کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے بارڈر ایریا سیکورٹی کمیٹی کو ایک سال کے اندر تمام چیزوں کے میرٹ پر فیصلے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے کیس کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کی اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بارڈر ایریا میں 20میل تک کوئی تعمیرات نہیں ہوسکتیں جبکہ ہمارے ہاں بارڈر لائن کے اطراف کاشتکاری کی جاتی ہے ہمیں چیزوں کو مزید خراب کرنے کے بجائے بارڈر سے متصل بفر زون قائم کرنا ہوگا بارڈر ایریا بہت ہی حساس جگہ ہوتی ہے ہمارے پاس اتنی چیزیں آتی ہیں سب کو صحیح کرنا ہمارا کام نہیں جو قانون کا کام ہے قانون کو کرنے دیاجائے اس موقع پر رہائشی بارڈر ایریا نے عدالت کو بتایا کہ جو زمین انہوں نے خریدی وہ تاحال ان کے نام الاٹ نہیں کی جاسکی ہے جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ دیکھنا انتظامیہ کا کام ہے بارڈر ایریا سیکورٹی کمیٹی اس طرح کے تمام معاملوں کا ازسرنو جائزہ لے قبل ازیں غیر متعلقہ افراد بشمول اراکین کمیٹی کو کی گئی الاٹمنٹس منسوخ کرتے ہوئے بارڈر کمیٹی ایک سال کے اندر تمام حل طلب مسائل کا میرٹ پر فیصلہ کرے عدالت نے معاملہ نمٹا دیا ۔