ٹریکٹڑ انڈسٹری نے بجٹ تجاویز میں درآمدی جی ایس ٹی کے خاتمے کا مطالبہ کردیا

32

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ٹریکٹر انڈسٹری نے بجٹ تجاویز کے ضمن میں ری فنڈ ادائیگیوں کو کم کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تجویز پیش کی ہے کہ امپورٹ پر جنرل سیلز ٹیکس کو ختم کیا جائے جس کی وجہ سے ہر سال انڈسٹری کے ایک ارب 90 کروڑروپے حکومت پر واجب الادا ہوجاتے ہیں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر الغازی ٹریکٹرز، محمد شاہد حسین نے تجویز میں کہا ہے کہ اس سے مقامی انڈسٹری پر مالی بوجھ میں کمی ہوگی۔ انڈسٹری کافی عرصے سے تجاویز دے رہی ہے کہ ٹریکٹروں کے سی کے ڈی حصوں کی درآمد ڈیوٹی کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ ٹریکٹر پرزہ جات ملک میں مقامی طور پر ٹریکٹروں کی تیاری کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ حکومت کو پہلے سیلز ٹیکس بلاواسطہ دینا اور پھر اگلے ہی ماہ ری فنڈ کے لیے رجوع کرنا معاملے کا حل نہیں ہے۔ اس وقت آئوٹ پٹ سیلز ٹیکس ٹریکٹروں کی سپلائی پر 5 فیصد ہے جبکہ مقامی، درآمدی پرزہ جات کی خریداری پر 17 فیصد اِن پُٹ ٹیکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس ری فنڈ کی ادائیگی تین روز میں ادا نہیں کی جاتی ہے اور اس کی ادائیگی میں کئی ماہ کی تاخیر کی جاتی ہے۔ اس وقت ایف بی آر کو ٹریکٹر انڈسٹری کو ری فنڈ واجبات کی صور ت میں 5 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ اس طرح ٹریکٹر انڈسٹری کو شدید مالی دشواری اور مالی وسائل کی قلت کا سامنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ٹریکٹر انڈسٹری کاشت کاروں کو ٹریکٹروں کی سپلائی کرکے اہم کردار ادا کررہی ہے اور انڈسٹری کی ترقی کے لیے مسلسل سپلائی کی فراہمی یقینی بنانا بھی انڈسٹری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سیلز ٹیکس ری فنڈ کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر سے ٹریکٹروں کی تیاری متاثر ہوسکتی ہے اور وینڈر انڈسٹری کو مسلسل ادائیگیاں دشوار ہو گئی ہیں۔ جی ایس ٹی کے خاتمے سے ملک کی انجینئرنگ صنعت کو فائدہ پہنچے گا اور کاشت کاروں کو بھی کم لاگت کی فنانسنگ سہولت میسر آئے گی، اس طرح مجموعی طور پر پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ملک کی زرعی پیداوار بڑھے گی جس سے معیشت مستحکم اور ٹیکس میں اضافہ ہوگا۔