ٹیکسیشن کے نظام اور کلچر میں واضح تبدیلی آنے کی امید ہے،اوورسیز انوسٹر چیمبر

36

کراچی(اسٹاف رپورٹر)غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندہ تنظیم اوور سیز انوسٹر زچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز

(OICCI) نے ٹیکس امور کے ممتاز ماہر شبر زیدی کی بطور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی کا خیر مقدم کیا ہے۔اس موقع پر اوآئی سی سی آئی کی صدر شازیہ سید نے کہا کہ شبر زیدی ایک معروف ٹیکس پروفیشنل ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے پاکستان میں ٹیکس کی پالیسی اورمعاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔حکومت کی جانب سے شبر زیدی کے بطور ایف بی آر چیئرمین تقرری ایک قابلِ تحسین اقدام ہے جو ایف بی آر کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر کی بڑی اور تجربہ کار ٹیم کے مدد سے نئے چیئرمین ملک کے ٹیکس کے نظام میں واضح تبدیلیاں لانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی حقیقی آمدنی کی صلاحیت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ٹیکس کلیکشن میںاضافہ کرسکیں گے۔ اوآئی سی سی کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامئے کے مطابق عالمی بینک کی 2019کے ایز آف ڈوئنگ بزنس ریٹنگ میں پاکستان کو ٹیکس ادا کرنے والے بدترین ممالک کی فہرست میں 17ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔اوآئی سی سی آئی کو امید ہے کہ ایف بی آر کی نئی باصلاحیت ٹیم شبر زیدی کی قیادت میں صوبائی ٹیکس حکام کی معاونت اور وفاقی حکومت کے ایز آف ڈوئنگ بزنس کو بہتر بنانے کی واضح ہدایت کی روشنی میں ورلڈ بینک کی ایز آف ڈوئنگ بزنس کی فہرست میں ملک کی درجہ بندی کو بہتر بنایا جائے گا۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے حالیہ اسٹاف لیول ایگریمنٹ میں بھی ٹیکس اسٹرکچر کو بہتر بنانے، ٹیکس اور جی ڈی پی تناسب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی سفارشات پیش کی گئیں ہیں۔ او آئی سی سی آئی پاکستان میں 200سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی باڈی ہے جو تقریباً ملک کے مجموعی ٹیکس کلیکشن میں ایک تہائی حصہ اداکرتے ہیں۔اوآئی سی سی آئی پہلے ہی 2019-20کے مالیاتی بجٹ کے حوالے سے اپنی بجٹ تجاویزات ایف بی آر اور صوبائی ریونیو حکام کو پیش کر چکی ہے جو بنیادی طور پر سرمایہ کاری کو آسان بنانے اورمعیشت کی ترقی پر مشتمل ہیں۔تجاویزات میںٹیکس پالیسیوں کو مستقل ، شفاف اوریقینی بنانے کے علاوہ گرین فیلڈ میںبراہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں طویل مدّتی ٹیکس سہولیات اور مینوفیکچرنگ میں نوکریاں پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔اوآئی سی سی آئی نے موجودہ ودہولڈنگ ٹیکس ریجیم کو 50سب کلاز سے کم کرکے 10کی سطح پرلانے کی بھی گذارش کی ہے۔ ٹیکس ریٹس میں کمی، وفاقی اور صوبائی محکموں میں بہتر کوآرڈینیشن، پالیسیوں اور ٹیکس ریٹس میں ہم آہنگی، تمام ریونیو اداروں کا باہمی اشتراک جس میں تمام ریوینیو ادارے انفرادی طور پر اس طرح کام کریں ۔