تحریک آزادی کشمیر زبردست عروج پر ہے،علما کرام

29

لاہور (نمائندہ جسارت) ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی قائدین نے ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جید علما کرام کی گرفتاریاں اور محب وطن جماعتوں پر پابندیاںبھارت وامریکہ کی خوشنودی کیلیے لگائی جارہی ہیں۔سابق حکمرانوں کو مودی کا یار کہنے والے خود بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ حکومت کی بزدلانہ پالیسیاں پوری دنیا میں پاکستان کیلیے جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بلند ہونے والی ہر آواز کو سازش کے تحت خاموش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر،امیر جماعت اسلامی سراج الحق، علامہ سید ساجدعلی نقوی، لیاقت بلوچ، پیر سید ہارون گیلانی، محمد یعقوب شیخ، خواجہ معین الدین کوریجہ، علامہ عارف واحدی، علامہ ثاقب اکبرودیگر نے کہاکہ حکمران مساجد و مدارس اور مذہبی جماعتوں کے خلاف بلا جواز اقدامات اٹھانے کے سبب تیزی سے عوامی حمایت کھو رہے ہیں۔ ان سے نہ تو ملک میں مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے اور نہ ہی وہ بیرونی دبائو کا صحیح معنوں میں مقابلہ کر پا رہے ہیں۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنمائوںنے کہاکہ حافظ عبدالرحمن مکی جیسے محب وطن رہنمائوں کی گرفتاریوں سے بھی بھارت و امریکا خوش نہیں ہوںگے اور ان کے مطالبات دن بدن بڑھتے جائیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطالبہ پر دینی جماعتوں پر پابندیاں اور جید علما کرام کی گرفتاریوں کی باتیں محض ڈھونگ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکومتی ذمے داران خود شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایسے حالات میں کہ جب تحریک آزادی کشمیر زبردست عروج پر ہے اور پوری کشمیری قوم قربانیاں و شہادتیں پیش کر رہی ہے ‘ حکومت بتائے کہ وہ جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنمائوں کی گرفتاریاں کر کے کس کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟۔ حافظ عبدالرحمن مکی کو فی الفور رہا کیا جائے۔