رتوڈیرو میں ایچ آئی وی متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ

34

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) رتوڈیرو میں ایچ آئی وی متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، تحصیل اسپتال رتوڈیرو میں قائم جنرل اسکریننگ کیمپ میں کل 17ویں روز مزید 1192 افراد کی بلڈ اسکریننگ کے بعد 29 نئے کیسز سامنے آ گئے جس میں 23 معصوم بچے اور 6 بالغان شامل ہیں، جس کے بعد ایچ آئی وی متاثرین کی مجموعی تعداد 507 ہوگئی ہے، جس میں 410 معصوم بچے شامل ہیں، ایک جانب تحصیل اسپتال رتوڈیرو میں قائم جنرل اسکریننگ کیمپ میں خواتین بچوں کے غیر معمولی رش کے باعث قائم 5 کاؤنٹر اور عملہ بھی کم پڑگئے ہیں اور گیٹس بند کر کے خواتین کو مرحلہ وار قطار بنوا کر اندر چھوڑا جاتا ہے، جس سے شدید گرمی میں بیمار بچوں کے ہمراہ موجود مائیں سخت اذیت سے دوچار ہیں، تو دوسری جانب لاڑکانہ چانڈکا چلڈرن اسپتال میں بچوں کا افتتاح کردہ ٹریٹمنٹ سینٹر ساتویں روز بھی فعال نہیں ہو سکا ہے۔ علاوہ ازیں سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے 17 روز میں مجموعی طور پر 13768 افراد کی بلڈ اسکریننگ مکمل کی گئی تاہم رمضان کے باعث یہ عمل سہ پہر ڈیڑھ بجے تک جاری رکھا گیا۔ دوسری جانب ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے اتائی ڈینٹل کلینکس کیخلاف ڈائریکٹر رورل ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق احمد کی سربراہی میں کارروائی کے لیے تشکیل کردہ تین رکنی ٹیم نے لاڑکانہ، باڈہ اور ڈوکری میں مخلتف ڈینٹل کلینکس کا دورہ کیا۔ دورے سے قبل کئی ڈاکٹر کلینکس بند کر کے بھاگ گئے، جنہیں پولیس کی مدد سے تالے توڑ کر جائزہ لینے کے بعد مکمل سیل کیا گیا اور کئی ڈاکٹرز کو وارننگ بھی جاری کی گئیں۔