ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

90

 

جب مشرقی پاکستان ہاتھ سے نکلنے کے قریب تھا تو افواج پاکستان کی جانب سے ایک آخری کوشش کی گئی کہ حالات کی کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جائے چنانچہ جنرل نیازی جو اس وقت مشرقی پاکستان میں تعینات تھے تو انہوں نے دو کاموں کا آغاز کیا۔ ایک جانب تو وہ بے شمار قیدی جن کو امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کو رہا کرنا شروع کیا اور دوسرا کام یہ کیا کہ مشرقی پاکستان میں جگہ جگہ عوامی اجتماعات کا انعقاد کرکے بنگالیوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ ملک میں (مشرقی پاکستان میں) امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں کیا گیا تھا اس لیے اس کو نہ صرف ایک ضروری اقدام سمجھا جائے بلکہ جو گرفتاریاں ہوئیں یا کچھ افراد جان سے گئے، ان کو بھی اسی کوشش کا حصہ سمجھا جائے۔ ان کا اپنا یہ کہنا، بنگالیوں کو سمجھانا، پاکستان کا مؤقف سامنے رکھنا بے شک مخلصانہ ہی رہا ہوگا لیکن یہ بات بتانے اور سمجھانے میں اتنی تاخیر ہو چکی تھی کہ وہ نفرت کے اس زہر کو جو ایک ایک بنگالی کی روح و بدن میں سرائیت کر چکا تھا، نکالنے میں ناکام ہوئے اور اس ناکامی کی ایک ہی وجہ تھی کہ ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘۔
شمالی علاقوں میں ان شر پسندوں کے خلاف جو پاکستان کی سالمیت کے لیے نہ صرف خطرہ بن چکے تھے بلکہ وہ پاکستان کے قبائلیوں کو شیشے میں بھی اتار کر اپنا ہمنوا بنا چکے تھے، جب افواج پاکستان نے کارروائی کا فیصلہ کیا اور آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ شروع کیا تو وہ شرپسند جو ریاست کے خلاف ہتھیار بند ہوکر مقابلے پر اتر آئے تھے، وہ تو زد میں آئے ہی آئے، ساتھ ہی ساتھ وہ قبائلی جو پہلے بھی پاکستانی ہی تھے اور آج تک پاکستانی ہی ہیں، وہ سب بھی گرفتار بلا ہوئے۔ یہاں دہری تاخیر ہوئی۔ اولاً یہ کہ وہ سب شر پسند جو ہمارے قبائلی علاقوں میں ایک عرصہ دراز سے جمع ہو رہے تھے، شادیاں رچارہے تھے، اولادیں در اولادیں پیدا کر رہے تھے، ایک دوسرے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہے تھے، آزادانہ تجارت کر رہے تھے، پورے پاکستان میں اپنے لیے جائداد خرید رہے تھے۔ اسلحہ و گولہ بارود جمع کر رہے تھے اور پاکستانی علاقوں کو اپنے زیر اثر لاتے جارہے تھے، ان سب کو ایک طویل عرصے تک ایسا سب کچھ کرنے کا موقع کیوںکر ملا؟۔ دوسری تاخیر یہ ہوئی جب ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہوا، وہاں سے ان قبائیلیوں کو جو پاکستانی تھے اور اب بھی ہیں، ان کو وہاں سے نکال کر محفوظ مقامات ہر منتقل کرنا پڑا، ان کے گھر بار اور کاروبار کو تباہ و برباد کرنا پڑا تو حالات ٹھیک ہونے پر ان کو دوبارہ ان کی اسی حالت میں جس حالت میں وہ منتقل ہونے سے پہلے تھے، بحال کیوں نہ کیا گیا۔ بات ایک ہی سامنے آئے گی کہ ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘۔
شمالی علاقوں میں جس قسم کے بھی آپریشن ہوئے ان آپریشنز کی وجہ سے پاکستان کا جو شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ کراچی تھا۔ اکثر قارئین کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ شمالی علاقوں کے آپریشن سے کراچی کے متاثر ہونے کا کیا تعلق بنتا ہے؟۔ ان کی حیرت بجا لیکن دنیا جانتی ہے کہ شمالی علاقوں کے متاثرین کی ایک بھاری تعدا سرکاری سطح پر اور سرکار کی مرضی کے بغیر، کراچی ہی کی جانب آئی۔ جو سرکاری سطح پر کراچی آئے ان کے لیے فیلٹوں پر مشتمل کئی آبادیاں جو 90 فی صد سے زیادہ ابھی آباد نہیں ہوئی تھیں، جو یہاں کے لوگوں کی ملکیت تھیں، یہ کہہ کر ان سے آباد کی گئی کہ وہ دوسال کے بعد اصل مالکان کے حوالے کر دی جائیں گی لیکن دسیوں سال گزر جانے کے باوجود بھی نہ تو وہ آبادیاں ان کے اصل مالکان کے حوالے کی گئیں، نہ ہی ان کی رقوم کی واپسی کا انتظام کیا گیا اور نہ ہی عارضی طور پر آباد ہونے والوں کو ان کے اپنے علاقے میں واپس بھیجنے کا بندوبست کیا گیا۔ شمالی علاقوں میں متاثر ہونے والے وہ افراد جو سرکار کی مرضی و منشا کے بغیر کراچی میں آئے انہوں نے جہاں جہاں خالی میدان، ندی، نالے اور اونچی نیچی پہاڑیاں دیکھیں وہاں ڈیرے جمالیے۔ خیال یہ تھا کہ حالات کی سازگاری کے بعد ان کی واپسی ہو جائے گی لیکن تاحال وہ کراچی کے مسائل میں ایک ’’اضافہ‘‘ ہیں جن کو آباد رکھنے کے لیے بجلی پانی اور گیس کی فرہمی بھی ایک درد سر سے کم نہیں۔ یہ سب کیسے ہوا اور اب تک متاثرین اپنے گھروں کو کیوں نہیں لوٹ سکے اس کا ایک ہی جواب ہے ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘۔
چند دن قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس بریفنگ میں لوگوں کو اس وقت چونکا دیا جب ان سے مسنگ پرسنز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’جنگ‘‘ میں سب جائز ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو لاپتا کیا گیا ہے وہ اسی فلاسفی کے تحت ہے۔ پاکستان کے عوام و خواص اب تک ایسی ساری کارروائیوں کو ’’جنگی‘‘ کے بجائے ’’تادیبی‘‘ خیال کر رہے تھے۔ ان کے اپنے خیال میں جنگیں تو ملکوں اور ملکوں کے درمیان ہوا کرتی ہیں، غداروں اور شر پسندوں کے خلاف تو جتنی بھی شدید کارروائیاں کیوں نہ ہوں، وہ تادیبی کہلاتی ہیں۔ بہر حال اگر اس کو جنگی مان بھی لیا جائے تو یہ بات محض عوام تک اس لیے معلوم نہ ہو سکی تھی کہ ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق کمانڈنٹ فرنٹیئر کور بلوچستان نے کہا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران ایران سے مزاحمت کی جارہی ہے۔ ان کے بقول15شرپسند حملہ آوروں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا۔ کمانڈنٹ ایف سی بلوچستان نے بتایا کہ پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کاکام شروع کردیا ہے جو 3 سے 4 سال کے دوران مکمل کر لیا جائے گا۔ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کو ہلاک کرنا بڑی کامیابی ہے تاہم تمام 15 لوگ ایران سے نہیں آئے تھے، مقامی لوگوں میں کچھ غداروں نے ان کا ساتھ دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کل تو وجود میں نہیں آیا۔ 70 سال سے زیادہ عرصہ دونوں جانب سے افراد کی جو آزادانہ آنے جانے کی عادات بگڑ چکی ہیں وہ جادو کی چھڑی گھمانے سے ٹھیک تو نہ ہو جائیں گی۔ جب اس خدشے کہ تحت کہ ہندوستان سے پاکستان میں جاسوس آسکتے ہیں، سندھ اور پنجاب کی سرحدیں ’’مستقل‘‘ بنادی گئیں تھیں تو یہ کیسے سمجھ لیا گیا تھا کہ افغانی اور ایرانی فرشتے ہیں۔ اس کا جواب ایک ہی ملے گا ’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں‘‘۔
ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ نوبت خودکشی کرنے تک جا پہنچی تھی۔ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کو انا کا مسئلہ بنانے والے اسی در کی چوکھٹ پر سجدے پر سجدے کیے جارہے ہیں اور وہ چوکھٹ ناک پر ناک رگڑوا رہی ہے۔ 60 ماہ میں سے 10 ماہ گرزار کر اسی چوکھٹ پر سجدہ ریزی کا بیک گراؤنڈ میوزک یہی شور مچا رہا ہے کہ ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘۔
ان حالات کو سامنے رکھ کر ایک ہی بات ہے جو کرنے کے لیے رہ گئی ہے اور وہ یہی ہے کہ جو قوم کئی نسلیں گزرجانے کے باوجود بھی نہ سدھر سکی اس سے سدھر جانے کی توقع رکھنا بے شک غیر دانش مندی ہی سہی لیکن پاکستانیوں گھبرانا نہیں ہے اس لیے کہ قصور بہت بڑا نہیں بس اتنا سا ہے کہ ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘۔