گفتار کے غازی

82

 

وطن عزیز کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ مقتدر اور بااختیار طبقہ گفتار کا غازی بننے پر ہی اکتفا کرتا ہے، کردار کا غازی ہونا اس کی نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہر ادارے کا سربراہ اخبارات کی زینت بننے کا خواہش مند ہے، ان کے بیانات پڑھ کر حیرات ہوتی ہے مگر حیرت سے بڑی حیرت یہ ہے کہ یہ طبقہ اپنی ہی کارکردگی پر سوالات اُٹھا کر اپنی ذمے داریاں دوسروں کے سر منڈھنے کی سعی نامشکور کا مرتکب ہوتا رہتا ہے۔ نظام عدل کے چودھری اکثر انصاف کی فراہمی میں تاخیری حربوں کی مذمت کرتے ہیں، نسل در نسل مقدمات چلنے پر حیرت اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں، بینچ اور بار کے تعلقات کو انصاف کی بنیاد قرار دیتے ہیں، آئے دن وکلا اور جج صاحبان کو باور کرانے میں اپنی ذہنی توانائیاں صرف کرتے رہتے ہیں اور اس یقین کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ ججوں اور وکلا کے تعاون کے بغیر انصاف کا حصول ممکن ہی نہیں، مگر زمینی حقائق اور عدلیہ کی کارکردگی اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ مذکورہ مسائل بار اور بینچ کے معاون کی پیداوار ہیں۔ وکلا کے تاخیری حربے ججز کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ میں سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے وکلا کی بے ہنگم آوازوں سے اُکتا کر اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ لاہور ہائی کورٹ نہیں جہاں شور مچا کر اپنی مرضی کا فیصلہ لے لیا جائے، تم لوگوں نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا، عدالت کا احترام ملحوظ خاطر نہ رکھا تو یہ معاملہ نیپ کو بھیجا جاسکتا ہے۔ واجب الاحترام! جسٹس عظمت
سعید کے ریمارکس پڑھ کر ہمیں وہ بزرگ خواتین یاد آگئیں جو بچوں کو چپ کرانے کے لیے ہوائی مخلوق سے ڈرایا کرتی ہیں۔ یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ کیا نیب بھی ہوائی مخلوق ہے اور بڑوں کو چپ کرانے کے لیے اسے ہوّا بنادیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کی آواز قدرتی طور پر دھیمی ہے اسے مزید دھیما نہیں کیا جاسکتا سو، احتجاج فطری عمل تھا۔ کہنے لگے لاہور ہائی کورٹ سے تو آپ کا تعلق بھی رہا ہے، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کو جس بے رحمی سے لوٹا گیا ہے اس سے چشم پوشی ممکن نہیں، وکلا کا اصرار تھا کہ نیلامی کے ذریعے جو زمین لیز پر دی گئی ہے اسے قابل استعمال بنانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ ہوں جن کا حصول پانچ سال کی قلیل مدت میں ممکن نہیں۔
سرمایہ کاری منافع کے لیے کی جاتی ہے کوئی بھی سرمایہ کار خسارے کا سودا نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ
اسمبلی میں جانے کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جہاں تک لیز کی پانچ سالہ مدت کا تعلق ہے تو یہ معاملہ طے ہوجائے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کو گھسیٹنے کی کیا ضرورت تھی عوام تو پہلے ہی نظام عدل سے بدظن ہیں اور اب ان کی بدگمانی یقین کی حدوں کو چھونے لگے گی اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ عدالتوںکے فیصلے قانون کے مطابق نہیں ہوتے، وکلا کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ انصاف کا حصول قانون کی للکار پر نہیں وکلا کی چیخ پکار پر ہوتا ہے، وکیل کی آواز جتنی بلند ہوگی اس کا عدالتی قد اتنا ہی بلند و بالا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جج اور جسٹس صاحبان وکلا کے بے ہنگم دلائل اور ان کی چیخ پکار ہی پر کیوں فیصلے سناتے ہیں۔ قانون کے تقاضے پورے کیے بغیر انصاف کے حصول کو وکلا کی آوازوں کے زیر وبم سے مشروط کرنا سائلین کے حقوق پر بمباری کرنے کے مترادف ہے۔