رمضان المبارک … دسواں سبق (یوم باب الاسلام)

192

 

عتیق الرحمن خلیل

’’جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔ (آل عمران: 85)
اسلام تمام کائنات کا دین ہے: کیا اللہ کے دین کے سوا یہ اہل کتاب کسی اور دین کے طلب گار ہیں۔ اللہ کا دین ازل سے اسلام ہے۔ یہی دین اس نے تمام نبیوں اور رسولوںکو دیا اور یہی دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ سورج، چاند، ابر، ہوا اور آسمان و زمین سب اسی دین کے پیرو ہیں۔ اسلام کی حقیقت اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا ہے۔ کس کی مجال ہے جو خدا کے حکم اور اس کے قانون سے سرتابی کرسکے جو اپنے محدود دائرہ اختیار میں (اور یہ دائرہ اختیار بھی خدا ہی کا قائم کردہ اور اسی کی مشیت کے تحت ہے)۔ کوئی سرتابی کرے تو وہ بھی دائرہ تکوینی کے اندر خدا کے قوانین کے تحت عاجز ہیں۔ کس کی تاب ہے کہ وہ زندگی اور موت کے طبعی قوانین سے بھاگ سکے۔ پس فطرت اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے محدود دائرہ اختیار میں بھی اسی خالق و مالک کے قوانین کی طوعاً فرماں برداری کرے جس کے قوانین کی تابع اپنے دائرہ تکوینی میں کرہاً کررہا ہے۔ اس طرح اس کی زندگی اس پوری کائنات کے ذرہ ذرہ سے ہم آہنگ و ہم رنگ ہوجائے گی۔ اس کے دائرہ اختیار اور دائرہ تکوینی دونوں میں کامل موافقت پیدا ہوجائے گی اور انسان خدا کی بخشی ہوئی آزادی کو خدا ہی کی شریعت کے حوالے کرکے اپنے آپ کو فرشتوں اور نبیوں کی طرح خدا کے رنگ میں رنگ لے گا۔ یہی اسلام ہے۔ یہی صبغۃ اللہ ہے۔ یہی خدا کا دین ہے۔ یہی مذہب آدمؑ، یہی دعوت نوحؑ اور یہی ملت ابراہیم ہے اور اسی کی دعوت لے کر آخری نبی آئے ہیں۔ پھر اس دین فطرت اور اس دین کائنات کو چھوڑ کر یہ اہل کتاب… اہل کتاب ہوکر… کس دین کے طلب گار ہیں۔
حاکم نے مستدرک اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت عبداللہ بن مسعودؓ نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
فَمَن یْرِدِ آْ آَن یَہدِیَہْ یَشرَح صَدرَہْ لِلِاسلاَمِ (انعام: 125)
’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں‘‘۔
صحابہ کرام نے رسول اللہؐ سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لیے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایک روشنی ڈال دیتے ہیں جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے کھل جاتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے وہ شخص پہچانا جائے جس کو شرح صدر حاصل ہوگیا ہے؟ فرمایا: ہاں! علامت یہ ہے کہ اس شخص کی ساری رغبت آخرت اور اس کی نعمتوں کی طرف ہوجاتی ہے، دنیا کی بے جا خواہشات اور فانی لذتوں سے گھبراتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگتا ہے۔
قوموں کی تاریخ ان کی وراثت اور ان کی روایات میں بعض ایسے اہم دن اور واقعات ہوتے ہیں جو نشان راہ اور سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں جن پر غور کیا جائے تو نہ صرف ماضی کے نقوش بلکہ مستقبل کے اہداف بھی روشن ہوجاتے ہیں۔ ان ہی دنوں میں ایک دن ’’یوم باب الاسلام‘‘ ہے جب 10رمضان المبارک 92ہجری کو راول اور روہڑی کے مقام پر محمد بن قاسم نے راجا داہر کو شکست دی جس کی وجہ سے یہ دن ’’یوم باب الاسلام‘‘ قرار پایا۔
فاتح سندھ محمد بن قاسم 75 ہجری کو طائف میں پیدا ہوئے۔ جب حجاج عراق کے گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے محمد بن قاسم کے والد قاسم کو بصرے کا گورنر مقررکیا۔ حجاج بچپن سے ہی محمد بن قاسم کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔ جب سن شعور کو پہنچے تو حجاج نے ان کو کردوں کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی اور انہوں نے کردوں کو شکست دے کر ایک سپہ سالار کی حیثیت سے اپنی حیثیت منوالی۔
ولید بن عبدالملک کی خلافت میں اس وقت سندھ میں راجا داہر کی حکومت تھی۔ اس زمانے میں تجارت بحری راستے سے ہوتی تھی۔ مسلمان تاجروں کا ایک بحری جہاز جس میں کچھ تاجر سوار تھے۔ عرب جارہا تھا کہ سندھ کی بندرگاہ دیبل کے قریب سمندری ڈاکوئوں نے جہاز کا مال و اسباب لوٹ لیا اور لوگوں کو قید کرلیا۔ اس وقت ایک لڑکی نے حجاج کو دہائی دی۔ جب حجاج کو اس فریاد و دہائی کی خبر ملی تو اس نے راجا داہر کو خط لکھا مگر اس خط کے جواب میں راجا داہر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس پر حجاج بن یوسف نے ولید بن عبدالملک سے حملے کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر حجاج نے سندھ پر حملہ کے لیے دو لشکر روانہ کیے ان دونوں کو شکست ہوئی اور کئی مجاہدین شہید کردیے گئے۔ ان مجاہدین کی شہادت پر حجاج نے محمد بن قاسم کی سربراہی میں فوج روانہ کی۔ اس وقت ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔ محمد بن قاسم چھے ہزار کا لشکر لے کر خشکی کے راستے دیبل پہنچا اور اس شہر کا محاصرہ کرلیا۔ کئی روز تک محاصرے کے باوجود کامیابی نہ ملی۔ بالآخر منجنیق کے ذریعے پتھر برسا کر قلعہ کو فتح کرلیا گیا۔ اس طرح پہلی بار سندھ میں اسلام کا پرچم لہرایا۔
محمد بن قاسم صرف ایک فاتح نہ تھے بلکہ ایک داعی بھی تھے۔ ان کی تبلیغ سے راجا داہر کا بیٹا بھی مسلمان ہوا۔ انہوں نے ہر خاص و عام کے لیے معافی کا اعلان کیا۔ یہ بات کہنا بے جا نہ ہوگی کہ محمد بن قاسم کی فتح تحریک پاکستان کی طرف پہلا قدم تھی۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے دو قومی نظریے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ پاکستان کی بنیاد اس دن رکھ دی گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ کی زمین پر قدم رکھا تھا۔ اس طرح رمضان المبارک 92 ہجری کو سندھ میں پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد پڑی اور سندھ کو باب الاسلام کا اعزاز ملا۔
آج 10 رمضان المبارک کو ہم یوم باب الاسلام مناتے ہیں۔