ایمنسٹی اسکیم،لٹیروں کی حوصلہ افزائی

97

وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی ہے ۔ جلد ہی اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جائے گا۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے آنے کا کئی ماہ سے شور تھا۔ کہا جارہا تھا کہ اس پر آئی ایم ایف کو تحفظات ہیں اس لیے اس میں تاخیر ہوئی ورنہ اس کا اعلان ایک ماہ قبل ہی کردیا جاتا ۔ ایمنسٹی اسکیم کی تفصیلات وہی کچھ ہیں جو پہلے سے اخبارات میں آچکی ہیں ۔ ایمنسٹی اسکیم کے اغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے اثاثے چھپاکے رکھے اب وہ ان اثاثوں کو محض 4 فیصد فیس ادا کرکے سرکار سے جائز کرواسکیں گے ۔ تاہم اگر کوئی اپنی نقد رقم پاکستان سے باہر ہی رکھنے پر مصر ہے تو اسے تھوڑا سا زیادہ یعنی 6 فیصد فیس ادا کرنا ہوگی ۔ یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے کہ ناجائز اثاثے کس کے پاس ہوسکتے ہیں ۔ یہ اثاثے ان کے پاس ہیں جنہوں نے بھاری رشوت کھائی ، پروجیکٹوں میں کمیشن بنایا یا پھر بھتے ، اغوا اور ڈاکوں کے ذریعے مال بنایا ۔ ایک عام افسر جو لاکھوں روپے ماہانہ رشوت لیتا ہے ، وہ بھی اربوں روپے کے اثاثے نہیں بنا سکتا کیوں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے روزمرہ کے اخراجات میں ہی رشوت کی یہ رقم ختم ہوجاتی ہے ۔ اب سمجھا جاسکتا ہے کہ عوامی نمائندگی کی دعوے دار حکومت کس کو نوازنے کے لیے یہ ایمنسٹی اسکیم لائی ہے ۔ دنیا بھر میں یہ چلن ہے کہ جو جرم کرے ، اسے جرم کی سزا دی جائے نہ کہ اسے نوازا جائے ۔ مگر یہ پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کو سزا دینے کے بجائے نواز دیا جائے ۔ اس اسکیم کی ایک خصوصی بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ ایمنسٹی اسکیم کے اعلان کے صرف ایک سال بعد ہی ایک اور ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کردیا گیا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ عمران خان اپنے ساتھیوں اور بہنوں کے نام پر کھربوںروپے کی جائیداد اور نقد رقم کو جائز کروانے کے لیے اس اسکیم کو لے کر آئے ہیں ۔ اس اسکیم سے حکومت کے خزانے میں جتنی رقم آئے گی ، اس سے زیادہ رقم تو حکومت صرف کسی ایک ناجائز اثاثے کو ضبط کرکے حاصل کرسکتی تھی ۔ اس کا سرکار یہ جواز بھی پیش کررہی ہے کہ مقصد سرکار کے کھاتے میں پیسے جمع کروانانہیں ہے بلکہ کالے دھن کو ملکی معیشت میں شامل کرنا ہے ۔ جناب، جب محض 6 فیصد پر حکومت نے نقد رقم اور دیگر اثاثہ جات کو غیر ملک میں ہی رکھنے کی اجازت دے دی ہے تو کس طرح سے یہ کالا دھن ملکی معیشت میں شامل ہوسکے گا ۔ چونکہ دیگر ممالک میں کالے دھن سے متعلق قوانین میں سختی کی جانے لگی ہے اور ذرا سے شبہ پر بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے جاتے ہیں اور ثبوت پر تمام ہی اثاثے نہ صرف ضبط کرلیے جاتے ہیں بلکہ اس کے مالک کو سزا بھی ملتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیکڑوں ارب روپے کی جائیداد اور نقد رقوم رکھنے والے ان کے جائز ہونے کا سرٹیفکٹ چاہتے ہیں ۔ اب عمران سرکار نے محض 6 فیصد پر یہ سرٹیفکٹ بانٹنے شروع کردیے ہیں ۔ ہم پہلے بھی اس امر کا اظہارکرچکے ہیں کہ ایمنسٹی اسکیم لانے سے ٹیکس ادا کرنے والوں اور ملک کے قانون پر عمل کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو کرپشن کے ذریعے اربوں روپے لوٹ کر ملک سے باہر فرار ہوجاتے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ایسے تمام افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرتی اور ان کے اثاثہ جات کی ضبطی کا عمل شروع کرتی ۔ بیرون ملک اثاثہ جات کی نشاندہی کرکے انہیں وطن واپس لانے کی کوششیں شروع کرتی ۔ ملک سے لوٹے گئے اثاثوں کی وطن واپسی کوئی انہونی نہیں ہے ۔ حال میں ہی غیر ملکی بینکوں نے ملائیشیا کو اس کے سابق وزیر اعظم نجیب عبدالرزاق کے بیرون ملک جمع کردہ کروڑوں ڈالر واپس کیے ہیں ۔ بات ہے صاف نیت کی اور درست سمت میں کوششوں کی ۔ مگر جب عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے افراد ہی اس فہرست میں شامل ہوں جو اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے تو پھر کس طرح سے یہ لوٹی گئی رقم واپس لی جاسکتی ہے اور کس طرح سے مجرموں کو سزا دی جاسکتی ہے ۔ جب عمران خان کی تینوں بہنوں کے اثاثوں کی مجموعی مالیت ہی ڈیڑھ کھرب روپے سے تجاوز کرجائے تو عمران خان کس طرح سے ملک میں لوٹی گئی رقم کی واپسی کے دعوے پر عملدرآمد کرسکتے ہیں ۔ ٹیکس ایمنسٹی کی مخالفت پوری حزب اختلاف کررہی ہے ۔ اس کی مخالفت وہ لوگ بھی کررہے ہیں جو ایک سال پہلے ہی خود ایک ایمنسٹی اسکیم لاچکے ہیں ۔ عمران خان نے پہلے پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کی اور اب ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے کھربوں روپے لوٹنے والوں کو ان کے اثاثے جائز ہونے کے سرٹیفکٹ بانٹنے شروع کردیے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ملک میں بے چینی پیدا ہورہی ہے ۔ عید کے بعدحزب اختلاف نے حکومت کے خلاف احتجاج کا عندیہ دیا ہے جس کا مطلب ہے ملک میں مزید انتشار اور ابتری ۔ ہم عمران خان سے درخواست کریں گے کہ اس ایمنسٹی اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری نہ کریں بلکہ مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن کی پالیسی سامنے لائیں ۔ ایک مرتبہ سرکار نے اپنی رٹ قائم کردی تو پھر آئندہ کسی کو اس طرح لوٹ مار کی ہمت نہیں ہوگی کہ چند ارب روپے کا پروجیکٹ سیکڑوں ارب روپے پر پہنچ جائے اور اس پر بھی مکمل نہ ہو ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان نیو اسلام آباد ائرپورٹ ، علامہ اقبال ائرپورٹ لاہور جیسے میگا اسکینڈل سے اپنے کریک ڈاؤن کا آغاز کریں اور ہر وہ اثاثہ جس کا جواز اس کا مالک نہ پیش کرسکے ، اسے بحق سرکار ضبط کرلیا جائے ۔ اسی طرح غیر ممالک میں بھی رکھی گئی ان مجرموں کی رقومات کی واپسی کی کوششیں کی جائیں ۔ ملک کو آئی ایم ایف سے بچانے کا یہی راستہ ہے اور یہی طریقہ ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے کر جائے گا ۔