ملک کو سیکولر بنانے کی سرکاری کاوش

86

ملک میں مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی نمائندہ تنظیم ملی یکجہتی کونسل نے حکومت کی جانب سے ملک کو لبرل اور سیکولر بنانے کی عملی کاوشوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستانیوں کے جذبات کو برانگیخت کرنے کی کوشش قرار دیاہے ۔ عمرانی حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے ، اس دن سے ہی پاکستان کی اساس اسلام پر منظم حملے شروع کردیے گئے ہیں ۔اس میں نصاب تعلیم میں تبدیلی اور 18سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی لگانا بھی شامل ہے ۔ ملعونہ آسیہ کو بری کروانے اور بیرون ملک فرار کروانے میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی ۔ وفاقی حکومت کی طرح سندھ حکومت بھی اس احمقانہ دوڑمیں پیچھے نہیں ہے ۔ اندرون سندھ اکثر اسکول بند پڑے ہیں ، اساتذہ کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوتی ہے ، اسکولوں کی بجلی بل ادا نہ ہونے کے باعث منقطع کردی گئی ہے ، اس طرف توجہ دینے کے بجائے سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی تعلیم کے لیے بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اسی طرح سندھ میں 18 سال سے کم عمر میں اسلام قبول کرنے پر قدغن لگائی گئی ہے ۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں عوامی مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ یہ حکومتیں کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم ہیں ۔ سندھ میںتعلیم ، صحت و صفائی سمیت ہر شعبہ ابتر حالت میں ہے ۔ شہر گاؤں کا نقشہ پیش کررہے ہیں اور گاؤں آثار قدیمہ کا ۔ اندرون سندھ سے ایڈز کے وبائی صورت اختیار کرنے کی خبریں آرہی ہیں ۔ ایسی صورتحال میں سندھ کی حکومت کو اہم مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ غیر ملکی آقاؤں کی فرمائش پر رقص و موسیقی کی تعلیم دینے کی ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال وفاقی حکومت کی ہے ۔ بدانتظامی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ۔ کرپشن کی دیمک ہر شعبے کو چاٹ گئی ہے ۔ حکومت اس جانب توجہ دینے کے بجائے 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی جیسے نان ایشوزمیں پھنسی ہوئی ہے ۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں نان ایشوز میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے حقیقی عوامی مسائل کے حل کی طرف توجہ دیں ۔