قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

100

 

تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے در گزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں۔ رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق فضول خرچی نہ کرو ۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے ۔ اگر اْن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اْس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو۔ نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ ۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 25تا 29)

’’روزہ صرف کھانے پینے سے رُکنے اور بچنے کا نام نہیں، روزہ تو حقیقت میں بیہودہ اور بے حیائی کی باتوں سے رُکنے اور بچنے کا نام ہے، پس اگر کوئی تمہیں گالی دے یا تمہارے ساتھ بد تمیزی کرے تو تم کہہ دو! میاں! میرا روزہ ہے‘‘۔ (ابن خزیمؓ) ’’بہت سے روزے دار ہوتے ہیں جن کے روزوں کا حاصل بھوکے مرنے کے سوا کچھ نہیں‘‘۔ (سنن ابن ماجہ) ’’روزہ (گناہوں سے بچانے والی) ایک سَپَر (ڈھال) ہے جب تک روزے دار اس کو نہ توڑے، عرض کیا گیا: اس ڈھال کو توڑنے والی کیا چیز ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جھوٹ اور غیبت‘‘۔ (سنن النسائی)