بجٹ میں تعلیم کی بہتری کے لیے مختلف اسکیموں کی تجویز

38

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) نئے مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں مختلف تعلیمی اداروں کی خطر ناک قرار دی گئی عمارتوں کے لیے 1ارب 33کروڑ روپے اور تعلیم کے لیے 4ارب 88کروڑ روپے کی 199نئی اسکیمیں لانے کی تجویز تیار کرلی گئی ہے۔ حکومت سندھ نے نئے مالی سال 2019-20کے بجٹ میں صوبہ میں تعلیم کی بہتری کے لیے مختلف اسکیموں سمیت دیگر مدو ں میں رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اسکول اور کالجوں کے لیے 199نئی اسکمیوں کے لیے 4ارب 88کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز تیار کرلی ہے اس کے علاوہ صوبہ میں پرائمری ، ایلیمنٹری ، سکینڈری اور ہائر سکینڈری اسکول کی خطر ناک قرار دی گئیں عمارتوں کی بحالی کے لیے بجٹ میں ایک ارب 33کروڑ کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سندھ کے دیگر ضلعوں میں ماڈل اسکول میں تبدیل کرنے کے لیے 66کروڑ 70لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کراچی اور لاڑکانہ میں سائنس میوزیم بنانے کے لیے 10رورپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ساڑھے 4ہزار اسکولوں کے مختلف اسکولوں کے لیے 6ارب 9کرورڑ اور کیڈٹ کالجوں کی اسکمیوں کے لیے 3ارب 81کروڑ 46روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔