سٹے بازوں نے ڈالر146 تک پہنچا دیا ،سخت کارروائی ہوگی،حکومت

140

اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور ڈالر پر حکومتی کنٹرول ختم ہونے کی خبروں کے ساتھ ہی سٹے باز میدان میں آگئے اور انہوں نے روز کی بنیاد پر ڈالر کی قدر میں مصنوعی اضافہ شروع کردیا ہے ۔ اس امر کے باوجود کہ انٹر بینک میں ڈالر اور روپے کے تبادلے کی شرح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا ، بدھ کو سٹے بازوں نے ڈالر کی قیمت میں 2 روپے کا مزید اضافہ کیا جس کی بنا پر ڈالر ملک کی تاریخ میں 146 روپے کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا تاہم شام کو ڈالر گزشتہ روز کی سطح 144.50 روپے پر واپس آگیا۔منی چینجرز کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے ساتھ ہی یہ خبریں گردش میں آگئی ہیں کہ روپیہ بے قدر ہوکر 180 روپے پر آجائے گا جس کے بعد سے سرمایہ کار میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے سٹہ کھیلنا شروع کردیاہے۔ ڈالر کی طلب میں اضافے کے باعث روپیہ اوپن مارکیٹ میں بے قدری کا شکار ہے ۔

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) حکومت نے مارکیٹ قیمت سے زائد ڈالر فروخت کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔روپے کے مقابلے میں غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں اضافے کے حوالے سے وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہواجس میں چیئرمین ایف بی آر، گورنر اسٹیٹ بینک، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی آئی بی کے علاوہ سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن
آف پاکستان کا وفد بھی شریک ہوا۔ اجلاس میں ایمنسٹی اسکیم کے تحت اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف مجوزہ کارروائی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی مارکیٹ قیمت خرید 143روپے 50پیسے جبکہ قیمت فروخت 144 روپے ہے، اسی طرح سعودی ریال کی قیمت خرید 38روپے 20پیسے جبکہ قیمت فروخت 38روپے 35پیسے ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طے شدہ کرنسی ریٹ سے انحراف کرنے والی کمپنیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، مارکیٹ سے زائد ڈالر فروخت کرنے والی ایکس چینج کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔