سرکلر ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام شروع‘ بغیر نوٹس بے گھر کردیا گیا، متاثرین

75

کراچی (اسٹا ف رپورٹر ) عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد کراچی سرکلر ریلوے کے ٹریک سے تجاوزات ہٹانے کا آپریشن شروع کردیا گیا۔ بدھ کے روز پہلے مرحلے میں گلشن اقبال 13 ڈی کے ٹریک پر قائم جھگیاں ہٹائی گئی ہیں۔ اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے بھاری مشینری کی مدد سے جھگیاں اور تعمیرات گرائیں۔ کسی بھی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کیلیے پولیس کی نفری بھی موجود تھی تاہم کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان ریلوے کے اسسٹنٹ انجینئر احتشام کا کہنا تھا کہ ضلع شرقی میں 11 کلو میٹر ٹریک پر تجاوزات ہیں، ان سب کو صاف کیا جائے گا۔ سرکلر ریلوے کے ٹریک سے تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات گرانے کیلیے آپریشن روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کی دی گئی مدت میں ٹریک کوکلیئر کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری جانب آپریشن کے دوران صرف ایک مشینری استعمال کی گئی جبکہ کئی کلومیٹر کا ٹریک کلیئر کرنے کیلیے ریلوے انتظامیہ کے پاس مشینری موجود نہیں تھی گلشن اقبال میں جن جھونپڑیوں کو توڑا گیا ہے انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا، متاثرین کا کہنا تھا کہ جس مقام پر آپریشن کیا گیا اسی کے قریب ریلوے اراضی پر ہی بنگلے بھی موجود ہیں ہمیں تو بے گھر کردیا گیا جن لو گوں نے بنگلے بنائے ہوئے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ متاثرین کا مزید کہنا تھا کہ ہم کرایہ دیتے تھے اور گزشتہ رات بھی کرایہ وصول کیا گیا اس کے با وجود ہمارے غریب خانے مسمار کیے جارہے ہیں۔