ملک میں سیاسی اور معاشی طور پر مصری طرز حکومت لانے کی کوشش ہورہی ہے،سینیٹر میاں رضا ربانی

95

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)سابق چیئرمین سینیٹ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی حکومت آئی ایم ایف معاہدے کو آئین اور جمہوری روایات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی طور پر مصری طرز حکومت لانے کی کوشش ہورہی ہے،

حکومت آئی ایم ایف معاہدے پر این ایف سی پر نظر ثانی اور صوبوں کا حصہ کم کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر دونوں ایوانوں کو اعتماد میں لیا جائے،

وہ جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔پیپلزپارٹی سندھ کے سیکرٹری جنرل وقارمہدی اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر راشد ربانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے،

میاں رضاربانی نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پر پارلیمنٹ اور مشترکہ مفادات کونسل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی تفصیل پارلیمنٹ میں بیان کی گئی ہے۔حکومت نے وفاقی کابینہ کو بھی اعتماد میں لینا گوارا نہیں کیا۔12مئی کو آئی ایم ایف کے جاری ہونے والے اعلامیہ سے واضح ہوگیا کہ اب حفیظ شیخ کو پارلیمنٹ میں بجٹ تقرر کی ضرورت نہیں،

آئی ایم ایف اعلامیہ میں آئندہ بجٹ کے تمام اہداف قبل از وقت بتادیئے گئے ہیں جبکہ حکومت نے پاکستان کی معاشی خود مختاری آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کا سب سے خطرناک نکتہ معاشی تقدس کو پامال کرنے اور معاہدے میں این ایف سی ایوارڈ میں نظر ثانی کی یقین دہانی ہے جو آئین کے آرٹیکل 60کی واضح خلاف ورزی ہے،

حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرکے آئین کو پامال کیا ہے اور صوبوں کے مالی مفادات کے آئینی تحفظ آئینی شق میں ترمیم کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں حکومت اور عوام کا کوئی منتخب نمائندہ شامل نہیں تھا۔

نگراں دور حکومت میں بھی این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بات کی گئی اور اب دوبارہ صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کی کوشش کرنا آئی ایم ایف کی غلامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو حکومت صوبوں کے مفادات اور این ایف سی ایوارڈ پر آئی ایم ایف سے سودے بازی کرسکتی ہے اس سے پاکستان کے اثاثوں کی حفاظت کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔حکومت نے ایسا وزیر خزانہ مقرر کیا ہے جس کی وفاداری آئی ایم ایف کے ساتھ ہے اور ایسا گورنر اسٹیٹ بینک لایا گیا جو آئی ایم ایف کا حاضر سروس ملازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے فاٹا کے لیے صوبوں کی آمدنی سے حصہ مانگنا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات،سی پیک سکیورٹی اخراجات صوبوں سے مانگنا خلاف آئین ہے۔اب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی صوبوں کے شیئرکی بات کی جارہی ہے،

جب سارا مالی بوجھ صوبوں نے برداشت کرنا ہے تو وفاق کس مرض کی دوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی دباؤ کے سامنے جھک گئی ہے۔عالمی مالیاتی ادارے درحقیقت موجودہ صورت حال میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہے ہیں اور اب ملک میں سیاسی اور معاشی طور پر مصری ماڈل کو لانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ایوب خان کے طرز حکومت کی واپسی اور صدارتی نظام لانے کی بھی کوشش ہورہی ہے،
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق اپنے اعلامیہ میں جو کہا ہے حکومت اس کی وضاحت کرے۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر معاہدے کی تفصیلات سامنے لائی جائیں،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے نہیں اپنی شاہ خرچیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہوچکا ہے۔جب وفاق کالے دھن کو سفید کرنے کی اسکیمیں لائے گا اور اپنے ٹیکس اہداف پورے نہیں کرے گا تو اس میں صوبوں کا کیا قصور ہے،

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہورہا ہے۔ماضی میں بھی نیب کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا گیا اور اب ایک مرتبہ پھر نیب حکومت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔