۔12واںآئی سی سی ورلڈ کپ کا میلہ 30مئی کوسجے گا

54

تحریر: سید پرویز قیصر
کرکٹ کا12واں عالمی کپ کا میلہ انگلینڈ اور ویلز میں 30 مئی 2019ء سے سجنے جار ہاہے۔ ابھی تک جو11عالمی کپ ہوئے اس میں 400 میچوں کی 796 اننگز میں 165 سنچریاں اسکور ہوئی ہیں۔ ابھی تک 103 کھلاڑیوں نے عالمی کپ میں سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ بھارت کے سچن ٹنڈولکر نے عالمی کپ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ لیجنڈ بلے باز نے 1992ء اور 2011ء کے درمیان6 عالمی کپ ٹورنامنٹ میں شرکت کی جس میں 45 میچوں کی 44 اننگز میں وہ 56.95 کی اوسط اور 88.98 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 6 سنچریوں اور 15 نصف سنچریوں کی مدد سے 2278 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔
آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ اور سری لنکا کے کمار سنگاکارا 5,5 سنچریوں کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں۔ رکی پونٹنگ نے 46 میچوں کی 42 اننگز میں 45.86 کی اوسط اور 79.95 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 5 سنچریوں اور 6 نصف سنچریوں کی مدد سے 1996ء اور 2011ء کے درمیان5 عالمی کپ میں 1743 رنز بنائے ۔
کمار سنگاکارا نے 2003ء اور 2015ء کے درمیان جن4 عالمی کپ میں شرکت کی ان میں 37 میچوں کی 35 اننگز میں 56.74 کی اوسط اور 86.55 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 5 سنچریوں اور7نصف سنچریوں کی مدد سے 1532 رنز بنائے۔ جنوبی افریقاکے ابراہیم ڈی ویلیئر، سری لنکا کے تلنکانے دلشان اور مہیلا جے وردھنے، آسٹریلیا کے مارک وا اور بھارت کے سورو گنگولی 4,4 سنچریوں کے ساتھ مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر ہیں۔ کل ملا کر 103 بلے بازوں نے 165 سنچریاں کرکٹ کے عالمی کپ میں اسکور کی ہیں۔ انگلینڈ کے افتتاحی بلے باز ڈینش ایمس کو عالمی کپ میں پہلی سنچری بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی سنچری بنانے والے ڈینس ایمس نیبھارت کے خلاف لارڈز میں 7 جون 1975ء کو 147 گیندوں پر 18 چوکوں کی مدد سے 137 رنز بنا کر ی یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
آسٹریلیا کے مارک وا نے عالمی کپ میں 50ویںسنچری اسکور کی تھی۔ 11 مارچ 1996ء کو چنئی میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے 112 آسٹریلیا کے افتتاحی بلے باز میتھیو ہیڈن نے نیوزی لینڈ کے خلاف سینٹ جارج میں 20 اپریل 2007ء کو 10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 100 گیندوں پر 103 رنز بنائے تھے جو عالمی کپ میں 100 ویں سنچری تھی۔ عالمی کرکٹ میں ابھی تک 20 ٹیموں نے شرکت کی ہے جس میں سے نامیبیا، ایسٹ افریقا، افغانستان، برمودا اور کینیا کے علاوہ ہر ٹیم نے ایک نہ ایک سنچری اسکور کی ہے۔
آسٹریلیا کو عالمی کپ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے کھلاڑیوں نے 84 میچوں میں 26 سنچریاں اسکور کی ہیں۔ بھارت نے 75 میچوں میں 25 اور سری لنکا نے 73 میچوں میں 23 سنچریاں بنائی ہیں۔
ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے 71 میچوں میں 17 سنچریاں اسکور کی ہیں جب کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے 79 میچوں میں 15 سنچریاں بنائی گئی ہیں۔ پاکستان اور جنوبی افریقاکی جانب سے 14,14 سنچریاں اسکور ہوئی ہیں۔ ایسا بالترتیب 71 اور 55 میچوں میں ہوا ہے۔
انگلینڈ نے عالمی کپ میں ابھی تک 72 میچ کھیلے ہیں جس میں 11 سنچریاں بنائی گئی ہیں۔ زمبابوے نے جو 57 میچ کھیلے ہیں اس میں 6 سنچریاں اسکور ہوئی ہیں۔
آئرلینڈ نے 21 میچوں میں 5 اور ہالینڈ نے 20 میچوں میں 4 سنچریاں بنائی ہیں۔ بنگلادیش کی جانب سے 32 میچوں میں 2 مرتبہ100سے بڑی اننگ کھیلی گئی ہیں۔
کینیڈا، اسکاٹ لینڈ اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ایک سنچری بنی ہیں۔ ایشیا 14,18 اور 11 میچوں میں ہوا ہے۔ آئرلینڈ کے کیون اوبرائن کو عالمی کپ میں سب سے تیز سنچری بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انگلینڈ کے خلاف بنگلور میں 2 مارچ 2011ء کو کھیلے گئے میچ میں انہوں نے 50 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی تھی، وہ 113 رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے۔
ویسٹ انڈیز کے گارڈن گرینج نے عالمی کپ میں سب سے سست سنچری بنائی تھی۔ 9 جون 1979ء کو بھارت کے خلاف آئوٹ ہوئے بغیر 106 رنز 173 گیندوں پر بنائے تھے۔ یہ میچ برمنگھم میں کھیلا گیا تھا اور ویسٹ انڈیز نے 9 وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میچ 2015ء میں ہوئے عالمی کپ میں سب سے زیادہ سنچریاں اسکور کی گئی تھیں، اس عالمی کپ میں 48 میچوں میں 38 سنچریاں بنی تھیں۔
انگلینڈ میں 1979ء میں ہوئے دوسرے عالمی کپ میں سب سے کم سنچریاں بنی تھیں۔ اس عالمی کپ میں 14 میچوں میں 2 سنچریاں اسکور کی گئی تھیں۔
ویسٹ انڈیز کے ووین رچرڈز نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں فائنل میں 23 جون 1979ء کو 157 گیندوں پر 11 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے آئوٹ ہوئے بغیر 138 رنز بنائے تھے۔بھارت کے خلاف ویسٹ انڈیز کے گارڈن گرینج نے برمنگھم میں 9 جون 1979ء کو آئوٹ ہوئے بغیر 106 رنز 173 گیندوں پر بنائے تھے۔
انگلینڈ میں 1975ء میں جب پہلا عالمی کپ منعقد ہورہا تھا تو 15 میچوں میں 5 بلے بازوں نے 6 سنچریاں اسکور کی تھیں۔ نیوزی لینڈ کے گلین ٹرنر نے اس عالمی کپ میں 2 سنچریاں بنائی تھیں۔ ایسٹ افریقا کے خلاف برمنگھم میں 7 جون 1975ء کو انہوں نے 201گیندوں پر 16 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے آئوٹ ہوئے بغیر 171 رنز بنانے کے علاوہ 14 جون 1975ء کوبھارت کے خلاف مانچسٹر میں 177 گیندوں پر 13 چوکوں کی مدد سے 114 رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ اس مرتبہ بھی کوئی کھلاڑی انہیں آئوٹ کرنے میں کامیاب نہیں رہا تھا۔
سری لنکا اور زمبابوے کے خلاف عالمی کپ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنائی گئی ہیں۔ دونوں کے خلاف 18,18 سنچریاں بنی ہیں۔ بالترتیب 73 اور 57 میچوں میں۔