امریکا میں شرپسند وں نے مسجد نذر آتش کردی

134
نیو ہیون: کیمیائی مادہ ڈال کر نذرآتش کی گئی مسجد کا اندرونی حصہ مکمل طور پر شہید ہوگیا ہے
نیو ہیون: کیمیائی مادہ ڈال کر نذرآتش کی گئی مسجد کا اندرونی حصہ مکمل طور پر شہید ہوگیا ہے

نیو ہیون (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے شہر نیو ہیون میں ایک مسجد کو نذرِآتش کردیا گیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے منگل کے روز اپنی رپورٹس میں بتایا کہ شہر کے فائربریگیڈ چیف نے بتایا ہے کہ دیانت مسجد کو لگائی گئی آگ کے نتیجے میں زمینی اور بالائی منزل جل کر تباہ ہوگئیں، اور عمارت کو بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا۔ آگ مسجد کے داخلی حصے سے شروع ہو کر تیسری منزل تک پہنچ گئی۔ اس دوران فائربریگیڈ کی امدادی کارروائی کے دوران پانی کے تیز دھاروں سے بھی عمارت کو نقصان پہنچا۔ تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی شخص جاں بحق یا زخمی نہیں ہوا۔ حکام واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، تاہم اس سلسلے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی ذمے داروں کا تعین ہوسکا۔ حکام نے مجرموں کی نشان دہی کرنے پر ڈھائی ہزار ڈالر کا انعام رکھا ہے۔ فائر بریگیڈ کے سربراہ جان آلٹن کا کہنا تھا کہ مسجد میں آتشزدگی حادثہ نہیں، بلکہ باقاعدہ کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی گئی تھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ مسجد زیر تعمیر تھی۔ مقامی پولیس اور ایف بی آئی کی جانب سے مسجد کو سیل کردیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔ خیال رہے کہ یہ مسجد تُرک برادری کے زیرانتظام تھی۔ نیو یارک میں تُرک قونصل خانے کے اتاشی برائے دینی خدمات کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے ذمے داروں کی گرفتاری کے لیے حکام کارروائی کر رہے ہیں اور ان افراد کی گرفتاری پر انعام رکھا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعے پر نیو ہیون سمیت امریکا بھر میں مقیم ترکوں کو شدید افسوس ہوا ہے۔ ادھر تُرک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے دیانت مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ دنیا میں بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کی ایک نئی مثال ہے۔ چاوش اولو نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس حملے کے ذمے داروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے سزا دی جانی چاہیے۔ ہمیں اسلام دشمنی اور نسل پرستی کے خلاف وسیع پیمانے پر جدوجہد کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی ترکی کی حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے بھی مسجد پر حملے سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ سیاسی یا نظریاتی وجوہات کے باعث ان حملوں کو نظر انداز کرنے والے اصل میں ایک ایسی آگ کا خاموشی سے نظارہ کر رہے ہیں کہ جو انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ دوسر ی جانب مقامی عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ وہ نمازوں اور دیگر عبادات کے لیے گرجاگھروں کا استعمال کرسکتے ہیں۔ مسجد انتظامیہ کے سربراہ حیدر علوی نے پریس کانفرنس میں عیسائی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام عبادات مسجد ہی میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مسجد کی مرمت کے لیے مسلمانوں اور ترک حکومت سے چندہ لیا جائے گا، اور جلد ہی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے گا۔