سری لنکا ،عیسائیوں کے حملوں میں مسلمان شہید،مسجد سمیت املاک کو نقصان

94
سری لنکا: عیسائی شرپسندوں کے حملوں کا نشانہ بننے والی مسلمانوں کی املاک اور مسجد کو پہنچنے والا نقصان نظر آرہا ہے
سری لنکا: عیسائی شرپسندوں کے حملوں کا نشانہ بننے والی مسلمانوں کی املاک اور مسجد کو پہنچنے والا نقصان نظر آرہا ہے

کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا میں مسلمان آبادی کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ جب کہحکومت نے ملک بھر میں غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذر دیا ہے۔ حکومتی وزیر رؤف حکیم نے بتایا کہ مسلمان مخالف فسادات میں ایک مسلمان شہید ہوا ہے، جب کہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ بلوائیوں نے مساجد پر بھی حملے کیے ہیں۔ رؤف حکیم کا کا تعلق مسلم کانگریس نامی سیاسی جماعت سے ہے۔ یہ سیاسی پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ حکیم کے مطابق مشتعل افراد نے پیر کے روز ایک 45 سالہ مسلمان کو شمال مغربی صوبے کے پوٹالام نامی علاقے میں شہید کیا۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس کے علاوہ مسلمانوں کی درجنوں دکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا، جب کہ کئی مساجد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں میں مسیحی کمیونٹی اور سری لنکا کی اکثریتی سنہالی آبادی کے افراد شامل تھے۔ کولمبو حکومت نے شمال مغربی صوبے میں کرفیو کا نفاذ کر ر کھا ہے۔پولیس کے ایک ترجمان روان گوناسیکرا نے بتایا کہتشدد پر قابو پانے کے لیے سیکورٹی فورسز پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔ کئی مقامات پر ہجوم کو مساجد پر حملوں سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کے ساتھ ساتھ آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ایک حکومتی اہل کار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ پوٹالام کے قریبی علاقے گمپاہا میں مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کے ریستوران اور ایک مسلمان شخص کی فیکٹری کو کافی زیادہ نقصان پہنچایا۔ پیر کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے نے ملک بھر میں نامعلوم گروپوں کی جانب سے نسلی تشدد کے منظم پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔وزیراعظم کا خطاب کے دوران کہنا تھا کہ شمال مغربی صوبے کے کئی مقامات پر ان گروپوں نے مسائل پیدا کیے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ پولیس اور سیکورٹی اداروں نے صورتحال پر قابو پا لیا ہے، لیکن یہ گروپ ابھی تک مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔