یمنی باغیوں کا سعودی تیل پائپ لائنوں پر ڈرون حملہ

47

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں پر یمنی باغیوں نے بارود بردار 7ڈرون طیاروں سے حملہ کر دیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کے مشرق سے مغرب کے درمیان موجود تیل پائپ لائن کے دو پمپنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جن تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، وہ دارالحکومت ریاض سے 220اور 380کلومیٹر کی مسافت پر دوادمی اور عفیف کے علاقوں میں واقع ہیں۔ ابقیق ینبع کہلانے والی یہ پائپ لائن 1200کلومیٹر طویل ہے اور اس سے روزانہ 50لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچا۔اس دوران لگنے والی آگ کو جلد ہی بجھا دیا گیا، جب کہ تنصیبات کو تاحکم ثانی بند کردیا گیا ہے۔ ماہرین پمپنگ اسٹیشن کے تمام حصوں کے معاینے کے بعد کلیرنس دیں گے جس کے بعد پمپنگ اسٹیشن کو کھول دیا جائے گا۔سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے میڈیا کو بتایا کہ تیل کی تنصیبات کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے لیے ڈرون میں بارود بھرا گیا تھا۔ ڈرون کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی حکومت نے اس حملے کا اعتراف یمنی باغیوں کے اعلان کے بعد کیا۔ حوثی ملیشیا کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اس کارروائی کو سعودی عرب کے خلاف لڑائی میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی تیل بردار جہازوں پر حملے میں ایران ملوث ہوا تو کارروائی میں دیر نہیں کریں گے۔ امریکا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز کے نزدیک سعودی جہازوں پر حملے میں ایران ملوث ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران حملے میں ملوث ہوا تو امریکا اس کے خلاف اقدام میں دیر نہیں کرے گا اور نتائج کا ذمے دار بھی ایران ہوگا۔ ساتھ ہی امریکا اور متحدہ عرب امارات نے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ امریکی فوج نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ محاذ آرائی کے خدشے کے پیش نظر بی 52 جنگی طیاروں کے بعد ایف 15 اور ایف 35 طیارے بھی خلیجی ممالک کے اڈوں پر پہنچا دیے ہیں۔