ترکی کا فرانس میں کئی اسلامی اسکول کھولنے کا عزم

30

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے فرانس میں انٹرمیڈیٹ اسکول قائم کرنے کے عزم کا اظہار کردیا۔ ترکی نے فرانس میں موجود مسلمان بچوں کی صحیح تربیت کے لیے اپنا پہلا انٹرمیڈیٹ اسکول 2015 ء میں اسٹراس برگ شہر میں کھولا تھا، جو فرانس میں تیسرا اسلامک اسکول تھا۔ اس سلسلے میں ترک ذمے داران نے گزشتہ ماہ ترکی میں فرانسیسی انٹرمیڈیٹ اسکولوں کا دورہ کیا تھا، جس کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا تھا کہ غیر ملکی ادارے ترک طلبہ کی تعلیم کے لیے معاشرے کی اقدار کی کس حد تک پاسداری کر رہے ہیں۔ انقرہ حکومت نے جولائی 2017 ء میں ایک نیا تعلیمی نصاب پیش کیا تھا، جس میں بعض قابل اعتراض امور کو حذف کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں مصطفی کمال اتاترک سے منسوب نام نہاد انقلاب کو ہٹاکر 15 جولائی 2016 ء کو صدر اردوان کے خلاف ناکام انقلاب کی کوشش کے متعلق متن داخل نصاب کیا گیا۔ دوسری جانب ترک حکومت کے بیان کے بعد پیرس حکام کی طرف سے مذمت کی گئی۔ فرانسیسی وزیر تعلیم جان میشیل بلینکر نے اسلامی اسکولوں کے قیام کے خیال کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ترکی کے اقدامات کو فرانس کی سیکولر پالیسی سے متصادم قرار دیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں بلینکر نے اردوان پر الزام لگایا کہ وہ انتہاپسندانہ خیالات کو ترویج دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے سیکولرزم کو پیٹھ دکھا دی ہے جو کئی دہائیوں سے اس کی تاریخ کا امتیاز رہا۔ اب اس کا رخ مذہبی بنیاد پرستی کی سمت ہو گیا ہے۔ فرانسیسی وزیر نے ترکی کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔