فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

34

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) فضا میں مضر گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح انسانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضا کو آلودہ کرنے میں انسانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکا کے ’’اسکرپس انسٹیٹیوٹ آف اوشین گرافی‘‘ کے مطابق زمین کی بالائی سطح میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے 415 ذرات فی ملین کی مقدار سے پائے گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق سبز مکانی گیس کی یہ سطح انسانی تاریخ میں بلند ترین ریکارڈ کی گئی ہے۔ عموماً اس گیس کی بلند سطح کرہ ارض میں موسم خزاں، سرما اور بہار میں ہوتی ہے۔ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر رالف کیلنگ کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کے بالائی ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے شامل ہونے کا موجودہ رجحان رواں برس میں برقرار رہنے کے قوی اشارے موجود ہیں۔ کیلنگ کے مطابق اس رجحان کی وجہ سے زمین کو موسم کے لحاظ سے غیر معمولی اثرات کا سامنا ہو گا اور اس کی وجہ سے کئی علاقوں کو انتہائی زیادہ درجہ حرارت، غیر معمولی بارش اور خشکی کا سامنا ہو گا۔رالف کیلنگ نے واضح کیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس زمینی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے شامل ہونے کی شرح 3 پارٹس فی ملین رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس سبز مکانی گیس کے فضائی ماحول میں شامل ہونے کی شرح اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو آیندہ صدی کے اوائل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح ایک ہزار پارٹس فی ملین تک پہنچ جائے گی۔