اسرائیل کا بیت المقدس میں 2بڑے تعمیراتی منصوبوں کا اعلان

80

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے 2 نئے اور بڑے تعمیراتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے جن میں یہودی آباد کاروں کے لیے مزید سیکڑوں مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔عبرانی ٹی وچینل 7 نے اپنی رپورٹ میں القدس میں صہیونی حکومت نے نئے تعمیراتی منصوبوں کو میگا پروجیکٹس قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گیوات مشفات یہودی کالونی کے شمال میں ایک نیا تعمیراتی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس میں 706 تعمیراتی یونٹ شامل ہیں۔ ان میں رہایشی اور تجارتی مراکز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہودی آبادکاروں کے لیے کھلا علاقہ بھی رکھا جائے گا جس میں وہ اپنی مرضی سے تعمیرات کرسکیں گے۔ تعمیراتی منصوبوں کا اعلان اسرائیلی وزارت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی طرف سے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ میں تراویح اور اعتکاف کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈائون اور انہیں مسجد سے بے دخل کرنے کا سلسلہ معمول بنا لیا ہے۔ منگل کی شب بھی اسرائیلی فوج کی بھاری نفری مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئی، جب سیکڑوں فلسطینی شہری مسجد میں نماز تراویح ادا کر رہے تھے۔ صہیونی فوج نے ایک بار پھر فلسطینی نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے 12 فلسطینی نمازی زخمی ہو گئے۔