حکومت اسلامی عقائد اور دینی معاملات میں مداخلت نہ کرے،ملی یکجہتی کونسل

55

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر ، سابق رکن قومی اسمبلی اسد اللہ بھٹو کی زیر صدارت صوبائی کونسل کا ایک اہم اجلاس منگل کو ادارہ نورحق میں منعقد ہوا جس میں کونسل میں شامل دیگر جماعتوں کے نمائندوں اور رہنماؤں نے شرکت کی ۔اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے 18سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی لگانے ، سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی تعلیم کے لیے اساتذہ کی بھرتی اور اس کے لیے بجٹ رکھنے ، قبول اسلام کے لیے 18سال عمر کی حد مقرر کر کے قبول اسلام پر عملاً قدغن لگانے کے حوالے سے سندھ اسمبلی میں بل لانے ، ملعونہ آسیہ کو ملک سے فرار کرانے ، رمضان آرڈیننس پر عمل درآمد نہ کرنے اور الیکٹرونک میڈیا پر بے حیائی وفحاشی پھیلانے اور ملک کو ایک سیکولر اور لبرل ریاست بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دینی احکامات اورمعاملا ت میں مداخلت سے باز رہے ، عوام اسلام سے گہری اور والہانہ وابستگی رکھتے ہیں ، عوام کے احساسات و جذبات کو مجروح نہ کیا جائے ۔ اجلاس میں کونسل کے صوبائی سیکرٹری قاضی احمد نورانی ، جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی ، جمعیت علما پاکستان کے عقیل انجم قادری ، مجلس وحدت المسلمین کے محمد صادق جعفری ، تنظیم اسلامی کے شجاع الدین شیخ ، عارف جمیل، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے محمد اعجاز مصطفی ، انوار الحسن ، جماعت اسلامی کے برجیس احمد ، جمعیت اتحاد العلما کے حزب اللہجکھرواورفلسطین فاؤنڈیشن کے صابر ابو مریم نے شرکت کی ۔ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری نے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں اور فسلطین میں اسرائیلی مظالم اور ملک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف قراردادیں پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کیا گیا ۔ اجلاس میں نو مسلم لڑکیوں کے قبول اسلام کے بعد شادی او ر اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلنے والے مقدمے اور عدالت کی طرف سے کمیشن کے اعلان پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مقدمہ ختم ہو جاناچا ہیے تھا ۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے اندر زبردستی مسلمان بنانے کا کوئی تصور موجو د نہیں ، کوئی ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا جس میں کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان کیا گیا ہو ، اسی طرح قبول اسلام کے لیے 18سال کی عمر کی حد مقرر کرنے کی کوششیں او ر سندھ اسمبلی میں بل لانے کا عمل عملاً قبول اسلام پر قد غن لگانے کی کوشش ہے جسے کسی صورت میں بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔18سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی دینی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے کیونکہ 12اور 13سال کی عمر میں بھی لڑکا یا لڑکی بالغ ہوجاتے ہیں ، یہ ایک انسانی اور سماجی مسئلہ بھی ہے ، حکومت مداخلت نہ کرے ۔ رہنماؤں نے کہاکہ تعلیمی اداروں کے اندر رقص وموسیقی کی تعلیم و تربیت کے فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی ،یہ فیصلہ نسل نو کو تباہ کرنے کے متراد ف ہے ،حکومت اس مد میں جو رقم خرچ کرنا چاہتی ہے وہ سرکاری اسکولوں کی حالت زار کو ٹھیک کرنے اور معیا ر تعلیم کو بہتر بنانے پر خرچ کرے ۔سرکاری اسکولوں میں بجلی ، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ سودی معیشت کا جاری رہنا اور سود کے حق میں حکومت کی سرگرمی دکھانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے ، سودی معیشت اللہ اور رسول ؐ سے کھلم کھلا بغاوت ہے ۔انہوں نے کہاکہ عاشق رسول ؐ ممتاز قادری کو تو پھانسی دے کر شہید کردیا گیا لیکن ملعونہ آسیہ کو رہا کرا کے ملک سے فرار کرادیا گیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اجلاس میں منظور کی جانے والی ایک قرار دادمیں گزشتہ دنوں داتا دربار (لاہور) گوادر اور کوئٹہ میں ہونے والے دھماکوں اور دیگر دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت اور ان اندوہناک واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اورحکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو مناسب علاج کی سہولیات اور شہیدوں کے لواحقین کو معقول معاوضہ دیا جائے ۔ حکومت ان واقعات میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دے اور نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں سیکورٹی اقدامات کو بہتر بنائے تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ رونمانہ ہوسکے۔دوسری قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین پر صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کے ناپاک وجود کے قیام کوآج 71سال مکمل ہوچکے ، غزہ 12سال سے محاصرے میں ہے ،قبلۂ اول پر صہیونی تسلط قائم ہے ، امریکا نام نہاد امن مذاکرات کے نام پر فلسطین کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ملی یکجہتی کونسل سندھ میں موجود تمام مذہبی جماعتیں متفقہ اعلان کرتی ہیں کہ القدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے اور فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن ہے ، پاکستان کے عوام فلسطینیوں کے حق واپسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں ، رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قبلۂ اول کی بازیابی کے لیے عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے ۔اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے ، پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرتا رہے گا۔