سندھ ہائیکورٹ ،پولیس اصلاحات کیلئے حکومت کو 21 مئی تک مہلت ،بل جمعے کو اسمبلی میں پیش ہوگا،مرتضیٰ وپاب

50

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی فیصلے کے مطابق سندھ پولیس میں اصلاحات نہ کرنے کا معاملہ ۔عدالت نے حکومت کو قانون سازی کے لیے 21 مئی تک مہلت دے دی۔سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی فیصلے کے مطابق سندھ پولیس میں اصلاحات نہ کرنے کے حوالے سے 2وزرااورچیف سیکرٹری سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ پولیس آرڈر 2002 ء کی بحالی کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی میں کیا ہورہا ہے، صرف ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کی بحث ہوتی ہے، 3ماہ ہوگئے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہورہا، کون ہے جو رکاوٹ بن رہا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ امید ہے جلد اسمبلی سے بل پاس ہوجائے گا، تھوڑا وقت دیا جائے۔عدالت نے کہا کہ اخبارات میں چھپ رہا ہے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہیں ہورہا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آپ موقع دیں جلد بل پاس ہوجائے گا۔عدالت نے حکومت کو قانون سازی کے لیے 21 مئی تک مہلت دے دی۔کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات،قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پولیس ایکٹ 2019ء اسمبلی سے پاس ہونے کے 60 روز کے اندر اندر ضلعی اور صوبائی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا،سلیکٹ کمیٹی پولیس ایکٹ 2019 ء کو (آج)بدھ تک حتمی شکل دے گی، جس کے بعد اسے جمعہ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میں میڈیا کارنر پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراسعید غنی، امتیاز شیخ اور اسماعیل راہو بھی موجود تھے۔بیرسٹرمرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس منگل کوصوبائی وزیر اسماعیل راہو کی صدارت میں ہوا ،بہتر حکمت عملی کے تحت ہماری کوشش ہے کہ یہ بل حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طور پر پاس کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سلیکٹ کمیٹی نے آئی جی سندھ کو بھی مدعو کیا تھا جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پولیس آرڈر 2002ء ایک متوازن قانون ہے جو کہ پولیس کو مکمل اختیارات کے ساتھ اس کا احتساب بھی کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئی جی سندھ کے ساتھ ساتھ ہم نے سول سوسائٹی کے نمائندے جنہوں نے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی ان کو بھی مدعو کیا تھا تاکہ ان کے موقف کو بھی سنا جاسکے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اعتراف کیا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کا بنیادی مقصد ہمارا یہ تھا کہ پولیس آرڈر 2002 ء کو لاگو کیا جائے ۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن منگل کو اپوزیشن کی جانب سے سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے عمل سے دکھ ہوا ہے،اپوزیشن کو تمام اجلاسوں میں اعتماد میں لیا گیااور تجاویز بھی لی گئیں لیکن سمجھ میں نہیں آیا کہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیوں کیا ہے،ہم اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے اور پولیس کو جوابدہ بنانے کا قانون بنارہے ہیں،ہم اپوزیشن کے2نہیں ایک پاکستان کے مطالبے پر کام کررہے تھے،ملک میں دیگر صوبوں میںجو قانون ہے اس کو ریویو کررہے تھے، ہم نے کئی اجلاس کیے، منگل کوآخری اجلاس تھا تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی اور بائیکاٹ کیا اب ہم نے ان کی عدم شرکت پر ایک اور موقع رکھا ہے تاکہ وہ شریک ہوسکیںکیونکہ ہماری کو شش ہے متفقہ قانون بنائیںہماری ترجیح اس قانون کو فعال کرنا اور سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لانا ہے،ایم ایم اے اور ٹی ایل پی نے بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے،آج آخری اجلاس کرکے بل اسمبلی کے لیے تیار کرلیا جائے گا تاکہ آنے والے اجلاس میں اسے پیش کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ا گر اسمبلی کے ٹی او آر کو پڑھا جائے تو 2011ء میں نافذ العمل مسودہ تھا اسی کو کمیٹی کے سامنے رکھا گیاتھا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپوزیشن لیڈر کی تجاویز بھی شامل کی تھیں مگر اس پر پوائنٹ اسکورنگ کی گئی اختیار رکھنے کے حوالے سے غلط تاثر پیش کیا جارہا ہے جبکہ سیفٹی کمیشن میں اختیار منتقل ہوگا حکومت کے پاس اختیار نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد حکومت کی کوششوں کو ناکام کرنا ہے ۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جمہوریت کسی کی منتظر نہیں اور ہم ان کے محتاج نہیں صرف ان کو موقع دینا چاہتے تھے جو کہ دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میںتبادلے سی ایم اور آئی جی کی مشاورت سے ہوتے ہیںہم نے اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ہے اور قانون سازی کے مسائل اسمبلی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اپوزیشن کے اعتراضات صرف اور صرف سیاسی ہیں وہ صرف حکومت کو لعن طعن کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کی غلطیوں پر ان سے پوچھ گچھ چاہتے ہیں کم از کم یہ اختیار ہمارے پاس ہونا چاہیے۔قبل ازیںصوبائی وزرا اسماعیل راہو،سعید غنی،امتیاز شیخ اور مرتضیٰ وہاب نے سندھ اسمبلی کی سیلکٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران سندھ پولیس کے لیے نئی قانون سازی کے معاملے پرحزب اختلاف کی جماعتوں کے بائیکاٹ کو پوائنٹ اسکورنگ قراردیتے ہوئے کہا کہ مجلس عمل اورتحریک لبیک نے پولیس ترمیمی بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے،اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کے محتاج نہیں ہیں،انہیں پولیس ترمیمی بل پر مشاورت کا موقع بھی دیا اوران کی تجاویز بھی شامل کیں،پنجاب،کے پی کے اور بلوچستان پولیس میں تبادلے سی ایم اور آئی جی کی مشاورت سے ہوتے ہیں، سندھ میں ہونے والی قانون سازی کی مخالفت سمجھ سے بالاترہے۔