ٹھٹھہ میں بھی ایڈز کے 5 مریض سامنے آگئے

48

ٹھٹھہ(نمائندہ جسارت) خون کی غیر محفوط منتقلی سے سندھ میں ایچ آئی وی،ایڈز کے پھیلاؤ کی خطرناک رپورٹس سامنے آنے کے بعد ٹھٹھہ میں میں بھی ایڈز کے 5 کیسز سامنے آ گئے۔ٹھٹھہ میں ایچ آئی وی /ایڈز کنٹرول پروگرام کی فوکل پرسن ڈاکٹر ام فروا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 2 خواتین اور 3 مردوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے جنہیں مزید تصدیق کے لیے کراچی کے ہسپتال تجویز کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں ہونے والے ٹیسٹ میں ایک کا نتیجہ منفی آیا جبکہ ایک شخص جو کراچی میں سول ہسپتال گیا وہ بغیر کسی علاج کے فوراً اپنے گاؤں واپس آگیا جبکہ 2 افراد نامعلوم وجوہات کی بنا پر کراچی گئے ہی نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب مریض سے عجلت میں واپسی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ علاج کا طریقہ کار جان کر خوفزدہ ہوگیا تھا اسلیے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا علاج وہاں نہیں کروائے گا۔ڈاکٹر فروا کا مزید کہنا تھا کہ ضلع کے مضافات میں رہنے والے زیادہ تر افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں اسلیے اس مریض سمیت دیگر افراد بھی کراچی جانے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کو کراچی بھیجنے کے بجائے ان کے گھروں سے قریب علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔دوسری جانب ٹھٹھہ کے ڈسٹرک ہیلتھ افسر ڈاکٹر حنیف میمن نے ضلع میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھااور وہ مریض کراچی میں زیرِ علاج ہے۔