پنجاب حکومت گرلز گائیڈ کو تحفظ نہیں دیگی تو کسی اور کو کہیں گے‘ عدالت

34

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ میں شیخ رشید کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت قبضہ گروپ بن گئی ہے؟‘ عدالت کا واضح حکم ہے کہ گرلز گائیڈ کی زمین پر کوئی قبضہ نہیں ہو گا‘ شیخ راشد شفیق کو کہیں اپنی حد میں رہیں‘ عدالتی حکم کے باوجود دیوار کیوں گرائی گئی؟‘ ہیلی کاپٹر اتارنے کے لیے دیوار گرا دی اور درخت کاٹے‘ دیوار گرنے سے بچیوں کی سرگرمیاں رک گئیں۔ پنجاب حکومت گرلز گائیڈ کو تحفظ نہیں دے گی تو کسی اور کو کہیں گے‘ بہتر ہو گا بات وہاں تک لے کر نہ جائیں۔ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ پنجاب نے کہا کہ ایسا نہیں ہو گا کہ بات کہیں اور تک جائے‘ آج ہی دیوار کی تعمیر شروع کر دیں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت آخر راولپنڈی میں کیا کر رہی ہے‘ عدالت کو اپنے حکم پر عمل کرانا آتا ہے‘ کمشنر، ڈی سی اور وہ سب ملزم ہیں جن کے حکم پر دیوار گری۔ وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ وزیراعظم نے خود جا کر اسپتال کا فیتا کاٹا‘ عدالتی حکم سے آگاہ کیا گیا مگر شیخ رشید نے ڈی سی کو فون پر کہا کہ عدالتی حکم کی پرواہ نہیں‘ راشد شفیق نے خود موقع پر دیوار گروائی۔ عدالت عظمیٰ نے کمشنر، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو طلب کر لیا۔