عدالت عظمیٰ نے میشا اورعلی ظفرکو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روکدیا

41

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ نے گواہان پر بیان کے فوری بعدجرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم کالعدم قراردیتے ہوئے میشا شفیع اورعلی ظفرکو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے روک دیا، عدالت نے ٹرائل کورٹ کوہدایت کی غیر ضروری التوا نہ دیتے ہوئے ٹرائل جلد مکمل کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ میں ماڈل میشا شفیع بنام ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لاہور کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کورٹ روم نمبر 3 میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کی۔دور ان سماعت وکیل میشا شفیع نے کہا کہ میشاشفیع علی ظفر کے تمام گواہان کو نہیں جانتی، گواہان علی ظفر کے ملازمین ہیں، جس پر وکیل علی ظفر سبطین ہاشمی نے کہاکہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا علی ظفر کا میشا شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟ جس پر وکیل علی ظفر نے کہاکہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتی ہے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیان اور جرح ایک دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے تو وکیل میشا شفیع نے کہا کہ گواہان کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے ۔دور ان سماعت عدالت عظمی نے میشا شفیع کی درخواست پر گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے علی ظفر کو 7 دن میں گواہان کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست نمٹا دی۔