جی 20 ممالک کے وزرائے زراعت اختراعی اقدامات اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر رضامند

63

ٹوکیو (اے پی پی) ترقی یافتہ ممالک کے گروپ ’’ جی 20 ‘‘ کے وزرائے زراعت نے شعبے کی ترقی کے لیے اختراعی اقدامات اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جاپان کے شہر نیگاٹا میں ہونے والی رکن ممالک کے وزرائے زراعت کی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پرجاری مشترکہ اعلامیے میں کیا۔انھوں نے اتفاق کیا کہ ایگرو فوڈ سیکٹر کی پائیدار ترقی کے لیے اختراع اور علم انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،ہمیں اس چیز کا ادراک ہے کہ کاشتکار برادری سمیت سرکاری و نجی شعبہ زرعی شعبے کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اختراعی کوششیں کررہے ہیں۔۔ انھوں نے ایگرو فوڈ سیکٹر سے بھرپور پیداوار کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے پروڈیوسرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے نان ایگرو فوڈ سیکٹر کے اشتراک سے ان تجاویز پر فوری عمل کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا۔وزراء نے زراعت کے شعبے میں اختراعات بالخصوص انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ روبوٹک ٹیکنالوجی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اختراعات کی ترویج کی اہمیت واضح کی۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے میں ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے ترقی کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے ، ان میں سے بعض ٹیکنالوجیز زرعی شعبہ پہلے ہی استعمال کررہا ہے۔اعلامیے میں ایگرو فوڈ سیکٹر کی ترقی میں خواتین کے کردار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، انھوں نے کہا کہ خواتین کو اختراعات تک منصفانہ رسائی اور مہارت پر مبنی تربیت کے ذریعے بااختیار بنا کر ایگرو فوڈ سیکٹر کی پائیدار ترقی و نشوونماء کو ممکن بنیا جاسکتا ہے۔اراکین نے زرعی شعبے کے تمام سٹیک ہولڈرز کی قابلیت میں اضافے پر بھی زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ افراد ایگرو فوڈ سیکٹر میں اختراعات کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔