چیئرمینایف بی آر ٹیکس کمپلائنس کے فروغ پر خصوصی توجہ دیں،احمد حسن مغل

25

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے حکومت کی طرف سے نجی شعبے سے سید شبر زیدی کو ایف بی آر کا چیئرمین تعینات کرنے کے فیصلے کو سراہا کیونکہ وہ ٹیکس معاملات کے ماہر ہیں اور نجی شعبے کے ٹیکس مسائل کوخوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کے نئے چیئرمین آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکس لگانے یا ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ملک میں ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اگر ٹیکس کمپلائنس کو بڑھا کر 75فیصد تک لے جائے تومزید نئے ٹیکس عائد کئے یا ٹیکس ریٹ میں اضافہ کئے بغیر ٹیکس ریونیو کودگنا کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 5ہزار روپے سے زائد کا سالانہ ٹیکس ریونیو ہدف تجویز کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریٹ کو مزید بڑھانے یا نئے ٹیکس عائد کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے نے ہمیشہ ٹیکس چوری کو فروغ دیا ہے۔لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایف بی آر آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کے ریٹ کو کم کرے، ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کی کوشش کرے اور مختلف ترغیبات کے ذریعے ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دے جس سے مجوزہ ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کرنا آسان ہو گا۔ احمد حسن مغل نے اس امید کا اظہار کیا کہ چیئرمین ایف بی آر ٹیکس کمپلائنس کو بڑھا کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو موجودہ 13فیصد سے بڑھا کر26فیصد تک لے جانے کی بھرپور کوشش کریں گے جو ملک کی اصل ٹیکس ریونیو کی صلاحیت ہے اور جس سے ٹیکس ریونیو میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ انہوںنے کہ چیئرمین ایف بی آر نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہیں محکمہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی منظوی کے بغیر اور کم از کم 24گھنٹے پیشگی نوٹس کے بغیر کسی ٹیکس دہندہ کا بینک اکائونٹ اٹیچ نہ کیا جائے جو ایک قابل تعریف فیصلہ ہے کیونکہ ایسے فیصلوں سے ٹیکس دہندگان میں خوف و ہراس کم ہو گا اور ٹیکس محکمہ پر ان کا اعتماد بحال ہو گا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام مشکل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے دستاویزی معیشت کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں غیر دستاویزی معیشت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے لیکن ٹیکس ریونیو میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے لہذا انہوں نے ایف بی آر کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ سے تمام جبری اقدامات کو ختم کریں اور ایک ایسا ٹیکس نظام تشکیل دینے کی کوشش کریں جو ٹیکس کلچر کی حوصلہ افزائی کرے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو۔ انہوںنے کہا کہ پاکستانی معیشت کی ترقی کا دارومدار ٹیکس ریونیو میں اضافے پر منحصر ہے تاہم کاروبار دوستانہ ٹیکس نظام تشکیل دے کر ہی پاکستان اپنی صلاحیت کے مطابق ٹیکس ریونیو کو فروغ دے سکتا ہے اور معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف مثبت پیش رفت کر سکتا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے چیئرمین موجودہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات لانے کی بھرپور کوشش کریں۔