لاڑکانہ، رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی وبائی صورت اختیار کرگئی

38

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) محکمہ صحت سندھ کے 5 اضلاع کو ایچ آئی وی کے حوالے سے ہائی رسک قرار دینے کے باوجود کارروائی سے گریزاں، اتائی ڈاکٹرز، غیر معیاری لیبارٹریز اور بلڈ بینکس کیخلاف سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی تشکیل کردہ 8 ٹیمیں غائب ہیں، محکمہ صحت نے ایچ آئی وی کے حوالے سے لاڑکانہ سمیت شکارپور، خیر پور، قمبر شہدادکوٹ، نوابشاہ کو بھی ہائی رسک قرار دیا تھا، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کارروائی صرف لاڑکانہ اور جیکب آباد میں کی دیگر اضلاع میں کارروائی عمل میں نا آسکی، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے تشکیل نو سے لے کر کوئی کارروائی نہیں کی جس وجہ سے رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی وبائی صورت اختیار کرگئی، ہائی رسک قرار دیے گئے اضلاع میں کارروائی نا کرنے سے مزید تباہی مچ سکتی ہے۔ رتو ڈیرو ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی پریشانیوں میں کمی نا آ سکی، متاثرہ بچوں کی بیس لائن ٹیسٹس میں مشکلات کا سامنا، ایکسرے مشین تین ماہ سے خراب، متاثرین پرائیویٹ اسپتال سے ایکسرے کروانے پر مجبور رہے، سینٹرل لیبارٹری سے ہیپاٹائٹس بی اور سی ٹیسٹ کٹس بھی ختم۔ اس سلسلے میں ایچ آئی وی ایڈز سندھ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سکندر میمن نے بتایا کہ نیشنل ایڈز کنٹرول نے تین ہزار ایچ آئی وی کٹس مہیا کیں، دیگر خود خریدیں گے، کٹس کی خریداری کے متعلق ٹینڈر کیے ہیں، آج تین دن پورے ہوئے کل کٹس کے آرڈر دیں گے۔