پاکستانی معیشت گورکنوں کے حوالے

80

آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو حزب اختلاف کی تمام ہی جماعتوں نے مسترد کردیا ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے تو عید کے بعد ملک گیر احتجاج کی کال بھی دے دی ہے جس کے تحت پورے ملک میں احتجاجی جلسے کیے جائیں گے ، جلوس نکالے جائیں گے اور مظاہرے کیے جائیں گے ۔ آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کے قرض کے حصول کا معاہدہ کیا گیا ہے ۔ یہ رقم بھی یکمشت نہیں ملے گی بلکہ قسطوں میں ملے گی ۔ اس قرض کے لیے حکومت پاکستان نے جو شرائط تسلیم کی ہیں ، وہ حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ شرمناک بھی ہیںاور کسی بھی ملک کے عزت و وقار کے منافی بھی ۔ عبدالحفیظ شیخ کو تو پہلے بھی آئی ایم ایف کے حکم پر زرداری نے ملک کا وزیر خزانہ لگایا تھا ۔ حفیظ شیخ کو وزیر بنانے کے لیے انہیں سینیٹر بھی منتخب کروایا گیا تھا ۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کا گورنر بھی آئی ایم ایف کے براہ راست حکم پر تعینات کیا جائے اور ٹیکس جمع کرنے والے ادارے کا سربراہ بھی ۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی پوری معیشت آئی ایم ایف کے ہاتھ میں تھمادی گئی ہے ۔ آئی ایم ایف ہی کی فرمائش پر حکومت کا کنٹرول ڈالر کی شرح تبادلہ پر سے ہٹالیا گیا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ڈالر روزانہ پاکستانی روپے کو مزید بے قدر کردیتا ہے ۔اب ڈالر کے مقابلے میں بے قدری کا کنٹرول اسٹیٹ بینک کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے موجودہ سربراہ رضا باقر پاکستان میں کیا کچھ کریں گے ، اس کا اندازہ ان کی مصر میں کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے جب وہ مصر میں آئی ایم ایف کے نمائندے تھے اور ان کی انگلی کے اشارے پر مصر میں اسی طرح کے فیصلے کیے جاتے تھے ، اس زمانے میں مصر کی کرنسی کو سو فیصد بے قدر کیا گیا ، بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں 110 تا 130 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ سیلز ٹیکس کو 14 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تبدیل کیا گیا جس کے نتیجے میں مصر مہنگائی کے سونامی میں ڈوب گیا ۔ رضا باقر کے یہی کچھ ارادے پاکستان میں بھی ہیں ۔ آئی ایم ایف کی فرمائش پر پاکستانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریبا 45 فیصد تو ڈی ویلیو ہو ہی چکی ہے اور اشارے ہیں کہ اسے ایک ڈالر کے مقابلے میں کم از کم 180 روپے کی سطح پر لے جایا جائے گا ۔ کچھ یہی صورتحال بجلی ، گیس اور پٹرول کی بھی ہے ۔ پاکستان میں بھی سیلز ٹیکس کو کم کرکے 2 تا 4 فیصد پر لایا جارہا ہے جبکہ اس کی جگہ پر 14 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کی تیاریاں ہیں جس کا اعلان آئندہ بجٹ میں کردیا جائے گا ۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جو بھی اصلاحاتی پیکیج دیا گیا ہے وہ سراسر پاکستان کی معیشت کو دفن کرنے کا منصوبہ ہے ۔ حزب اختلاف تو دور کی بات، خودتحریک انصاف میں بھی اس پر اضطراب پایا جاتا ہے۔ پیرہی کو تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے موجودہ بیل آؤٹ پیکیج کو بالکل درست سیل آؤٹ پیکیج کا نام دیا گیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے احکامات کی روشنی میں پاکستانی معیشت اور قوم کے ساتھ جو بھی خوفناک کھلواڑ کیا جارہا ہے ، اسے پاکستانی معیشت کی درستی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا نام دیا ہے ۔ حالانکہ اس حقیقت سے ہر بشر آگاہ ہے کہ جب پٹرول ، گیس اور بجلی مہنگی ہوجائے گی، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ زمین پر آگرے گا تو کس طرح سے پاکستانی مصنوعات دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرپائیں گی اور کس طرح سے برآمدات بڑھیں گی ۔ بالکل اسی طرح جب درآمدی کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی تو کس طرح سے زرعی پیداوار برآمد کی جاسکے گی اور بڑھتے ہوئے نرخوں پر کس طرح سے پاکستانی عوام اسے خرید پائیں گے۔ یہ قحط کی دوسری صورت ہوگی کہ اسٹوروں پر ہر چیز موجود ہوگی مگر استطاعت نہ ہونے کے باعث عوام کی اکثریت کی پہنچ سے دور ۔ جب عمران خان اقتدار میں آئے تھے تو ان کے انتخابی دعووں کی روشنی میں توقع کی جارہی تھی کہ وہ ٹیکس جمع کرنے کے نظام میں بہتری لائیں گے ، کے الیکٹرک و بجلی بنانے والی دیگر نجی کمپنیوں اور بڑے اداروں کی ٹیکس چوری کو روک کر پچھلی لوٹی گئی رقم بھی وصول کریں گے ۔ پاکستان سے لوٹ کر بیرون ملک جمع کروائی گئی رقوم کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کریں گے ۔ تاہم عمران خان جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ ان کے تمام تر دعووں کے برعکس ہے ۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف اور زرداری نے جو کچھ بھی کیا وہ کہیں سے بھی قابل تحسین نہیں ہے ۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے سیکڑوں ارب ڈالر مالیت کی بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور ملک کو موجودہ سطح پر پہنچادیا ۔ مگر عمران خان اور ان کی ٹیم نے اس وقت پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران اور اب معاہدے کے نتیجے میں جو کچھ بھی کیا ہے اس کی مثال کفن چور اور اس کی اولاد سے ہی دی جاسکتی ہے ۔ عمران خان کے اقدامات کے نتیجے میں نواز شریف اور زرداری اب بہتر لگنے لگے ہیں ۔ سرکار کے ان اقدامات کے نتیجے میں عید کے بعد پھر احتجاج کا دنگل سجے گا جو ملک کے لیے کہیں سے بہتر نہیں ہوگا مگر عوام کے پاس اس کے علاوہ عمران خان نے اور کوئی آپشن بھی نہیں چھوڑا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں اور اس میں عوام دشمن شرائط کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں ۔