قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ

73

مگر دیکھ لو، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اْس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی ۔ تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مدد گار بیٹھا رہ جائیگا ۔ تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اْس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس اْن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو ۔ اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ ’’پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا‘‘۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 21تا 24)
نبی کریم ؐ نے فرمایا: ’’جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا، ایمان کی حالت میں، ثواب کی نیت (اخلاص) سے، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے‘‘۔ (بخاری، مسلم) راتوں کا قیام نبی کریم ؐ کا بھی مستقل معمول تھا، صحابہ کرام ؓ اور تابعین ؒ بھی اس کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور ہر دور کے اہل علم وصلاح اور اصحاب زہدو تقویٰ کا یہ امتیاز رہا ہے۔ خصوصاً رمضان المبارک میں اس کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ رات کا یہ تیسرا آخری پہر اس لیے بھی بڑی اہمیت رکھتاہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ہر روز آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اہل دنیا سے خطاب کرکے کہتا ہے: ’’کون ہے جو مجھ سے مانگے، تو میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے، تو میں اس کو عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے، تو میں اسے بخش دوں؟‘‘ (بخاری)