چڑھ جاتے ہیں نالے

102

عنایت علی خان
بالآخر سینیٹ یعنی ایوانِ بالا نے 18 سال سے کم عمر ’’بچوں‘‘ کی شادی کی ممانعت کا‘ پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمن کا پیش کردہ بل اکثریت رائے سے منظور کرلیا جس کی خلاف ورزی کی سزا 2 لاکھ روپے جرمانہ اور 3 سال کی قید ہے۔ بل کی مخالفت کرنے والے 2 افراد تھے، ایک جماعت اسلامی دوسرے جمیعت علمائے اسلام کے رکن۔ ان حضرات کا موقف یہ تھا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اور یہ بل آئین کی دفعہ 2 اے کے منافی ہے۔ یہ سینیٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا‘ شریعت میں شادی یعنی نکاح کی عمر بلوغت ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے بلوغت کی عمر 15 سال مقرر کی ہے۔ ان 2 افراد نے یہ بھی اعتراض کیا کہ بل جس کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا اس کے اجلاس میں ہمیں نہیں بلایا گیا، بہتر تھا کہ یہ بل نظریاتی کونسل کو بھیج کر مطابق شریعت مسئلہ معلوم کیا جاتا۔ اس پر جناب رضا ربانی نے فرمایا ایسا ہی ایک بل نظریاتی کونسل کو بھیجا گیا تھا جس کا وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا اور بل منظور کرلیا گیا۔ یہاں ہمیں اکبر الٰہ آبادی یاد آرہے ہیں جنہوں نے ایک ایسی ہی صورت حال کے بارے میں کہا تھا۔
بحث تو اکبر نے رات پردے کی خوب ہی کی
مگر ہُوا کیا
نقاب اُلٹ ہی دی اس نے کہہ کر کہ کر ہی
لے گا مرا مُوا کیا
شیری رحمن صاحبہ نے جو بل پیش کیا اس کا محرک یہ خیال تھا کہ بچوں کی شادی اگر جلدی ہوگئی تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نا معقول بچے اُن کے منہ کا نوالہ چھین لیں گے اور ملکی معیشت کا دیوالیہ نکال دیں گے۔ اسی محرک کے تحت ایک وقت میں ’’نس بندی‘‘ کی مہم چلائی گئی تھی جس کی کم از کم شادی کے حوالے سے تو حکومت خوش اور حکومت کا خدا خوش لیکن اس کے فطری نتائج اس وقت بھی تشویشناک قرار دیے گئے تھے جس پر راقم کا تبصرہ تھا۔
بس تمہیں اتنی اجازت ہے کہ شادی کرلو
شاخسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ویسے اس اندیشے کا حتمی جواب تو انسان کو پیدا کرنے اور اُس کے دیگر معاشرتی و معاشی مسائل کا شعور، شیری رحمن سے زیادہ رکھنے والی ہستی نے اپنی کتاب ہدایت میں ان الفاظ میں دے دیا تھا کہ ’’پیدا ہونے والے بچوں کو ہی نہیں تمہیں بھی ہم کھانے کو دیتے ہیں‘‘۔ لیکن سینیٹر مشاہد اللہ خان کے بقول بلوغت کی شرط چودہ سو سال پہلے کی تھی اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ملکی حالات جس نہج پر جارہے ہیں وہ تو واقعی تصدیق کرتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے جس کی سرکاری مثال رائج الوقت مدینے کا ریاستی نظام ہے لیکن مفکر اسلام غلطی سے مشاہد اللہ خان کی رائے سے متفق نہیں جو کہہ رہے ہیں۔
زمانہ ایک، حیات ایک کائنات بھی ایک
دلیل کم نظری قصہ جدید و قدیم
ہمیں یقین ہے کہ سابق لوڈر اور حالی سینیٹر مشاہد اللہ خان کے خیال کی رو پر اگر زمانے کی رو بھی چل نکلی تو موصوف کے پوتا پوتی یہ کہتے نظر آئیں گے کہ یہ مناکحت، (معاف کیجیے مناکحت پرانا لفظ استعمال ہوگیا) یہ میریج ویریج کا ٹنٹا (دوبارہ معاف کیجیے) پرابلم پرانا تھا چودہ سو سال پرانا زمانہ بہت آگے بڑھ گیا ہے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا میں تو باپ کا نام ہی پوچھنا جہالت و بد تہذیبی کی علامت ہے۔ لیکن جدیدیت ہی مشاہد اللہ خان کا مسلک ٹھیرا تو ہر کہ آمد عمارتِ نوساخت کے مصداق انہیں امریکا کے مانند ملک میں پرہجوم مقامات (معذرت) پبلک پلیسیز پر ایسے محفوظ گوشے بھی بنانے ہوں گے جہاں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکیاں حال ہی میں منظور شدہ قانون کی زد سے بچ کر جدید انداز میں شیری رحمن کے اندیشہ ہائے دور دراز کا مداویٰ کرسکیں کیوں کہ بقول مرزا غالب۔
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
بلکہ بادنیٰ تصّرف روکو گے مری طبع تو ہوگی وہ رواں اور۔
بی بی شیری رحمن تو خود کو مبارکباد دے رہی ہوں گی کہ ایک قومی مفاد کا بل پاس کرانے کا اعزاز انہیں حاصل ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کی فکر کو ہلَہ شیری دینے والے عناصر کوئی اور ہیں بقول اکبر الٰہ آبادی۔ انہیں کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زباں میری ہے بات ان کی
یہ جو امریکا سے بہبود آبادی کی مہم کے لیے کثیر سرمایہ امداد کے طور پر آرہا ہے اس کا ہدف ہے جس پر محترم چاند ماری فرما رہی ہیں۔
خیر خواہی کا جو یہ پیٹ میں اٹھا ہے مروڑ
وجہ کچھ اور ہے ہمدردیاں فرمانے کی
نسل نو عالم اسلام کی ہے دہشت گرد
اس کو دنیا میں اجازت ہی نہ دو آنے کی
نیز یہ بظاہر اپنی بہبود کے منصوبے ہیں سب۔ پھر بھی یارو! سوچ لو اس میں کوئی غچا نہ ہو
چاہتے کیوں ہیں بھلا دنیا کے سارے چودھری
تیسری دنیا میں پیدا تیسرا بچہ نہ ہو
اب ایک طرف مغربی ممالک اپنی نسل معدوم ہوتے دیکھ رہے ہیں اور مسلمانوں کی تعداد بار آوری کی صلاحیت اور قبول اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان سے متوحش ہیں اور اپنی پیداواری رفتار بڑھانے کے لیے نت نئی ترغیبات دے رہی ہیں۔ یہاں تک کہ چین نے بھی جہاں حکومت کے احکام کے خلاف کسی کو چوں (بچے کیوں، کو ’’چوں‘‘ ہی کہتے ہیں) کرنے کی مجال نہیں، وہاں خود حکومت ہی کو ہوش آیا ہے اور ایک مزید بچے کی پیدائش کی اجازت عطا فرما دی گئی ہے۔
ہم تو ٹھیرے بقول مشاہد اللہ خان دقیانوسی جو یہ سمجھتے ہیں کہ پیدا کرنے والے کے ذہن میں تعداد مخلوق اور وسائل حیات کا مکمل اور بے عیب ڈیٹا موجود رہتا ہے اور اس نے پاکستان کو تعداد افراد سے ہزار درجے زائد وسائل حیات مہیا کیے ہیں اب اگر حکومت ہر دو امور میں عدم مطابقت پاتی ہے تو ’’کرپشن‘‘ کی ’’وہیل‘‘ کے جبڑوں سے نسبتاً چھوٹی مچھلیوں کی غذا نکلوائے۔ پانی جس پر حیات اور وسائل حیات کا انحصار ہے اس کی فراہمی کی رقم شیر مادر کی طرح پی جانے کا تدارک کرے۔ کثیر بے آباد زمینیں آباد کرے پھر اگر قوت لایموت کے فقدان کا مسئلہ باقی رہے تو ہم سے رہی۔ پھر بھی اگر ایوان بالا کے لال بجھکڑوں کے خیال میں 18سال کی عمر سے کم کے بچوں (جی ہاں لڑکے یا نوجوان کہیے کہیں شادی کی اجازت دینی پڑے گی) کی شادی جرم قرار دینا ناگزیر ہو تو ’’چڑھے نالوں‘‘ کی ذمے داری لیتے ہوئے امریکا کی طرح اپنے ماں باپ کی نہیں قوم کی مشترک اولاد کے طعام و قیام کے مراکز قائم کرنے چاہیں جہاں رہائش پزیر کھیپ کی نگرانی کے لیے چند حضرات و خواتین کا تقرر کریں اور ان فلاور چلڈرن جی ہاں ابتداً انہیں یہی پیارا دلارا لقب دیا جاتا تھا لیکن جب یہی گلہائے رنگارنگ قوم کے لیے اپنی بدمعاشیوں کے نئے گل کھلا کر باعث زحمت و ننگ ثابت (ماں باپ کی مشفقانہ تربیت سے محرومی کے نتیجے میں) ہوں تو ان چڑھتے نالوں کا منبع و مخرج ہی سیل کردیا جائے اور ابارشن (اسقاطِ حمل) جو نسل انسانی کی بقا کے پیش نظر قانوناً جرم تھا اُسے ’’مُباح‘‘ قرار دے دیا جائے اس کے لیے انگریزی کا فقرہ ہے To nip in the bud یعنی جیسے ہی بیج سے نکل کر اکھوا سر اٹھائے کھرپی مار کر اس کی جڑ ہی کاٹ دی جائے تاکہ یہ راگ ہی ختم ہو۔ اس صورت حال کا ایک محرک اور بھی ہے یعنی اپنی کمائی اپنے ہی اوپر خرچ ہو، بیچ میں ہمارے تعیش میں کھنڈٹ ڈالنے والے یہ بچے کہاں سے آگئے۔
دراصل ہے تعیش و خود غرضیوں کا کھیل
بہبودی عوام سے کچھ واسطہ نہیں
کچھ لوگ جیسے ریل کے ڈبوں میں لیٹ کر
نوواردوں سے کہتے ہیں بس اب جگہ نہیں
علامہ اقبال نے مغرب کی چیرہ دستیوں کے حوالے سے سوال کیا تھا۔
پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق؟
باقی صفحہ 7 کالم 1پر
بقیہ: عنایت علی خان
اے اقوام مشرق اب کیا کیا جائے یہی سوال سینیٹ کے فیصلے کے بعد ان الفاظ میں اُبھرتا ہے کہ پس چہ باید کرد اے مردانِ حق؟ سو پہلے مرحلے میں تو آئین پاکستان کی دفعہ 2 الف کے تحت عدالت سے رجوع کرکے اسے کالعدم قرار دلوانے کی کوشش کی جائے اور اگر یہ تدبیر کارگر نہ ہو جس کا پورا پورا امکان ہے تو پھر یہ ہے کہ مردان حق خود تو بچہ بننے سے رہے (حالاں کہ بوڑھا بچہ ایک ہوتا ہے) احیائے احکام شریعت کے مقصد سے اس قانون کے خلاف بھرپور مہم چلائیں۔ مذکورہ قانون کی خلاف ورزی کریں۔ 2 لاکھ فی نکاح جرمانے کی ادائیگی کے لیے چندہ جمع کریں اور تین تین سال جیل بھرو کے نعرے کے ساتھ میدان میں نکل پڑیں کہ ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد اکبر ہے اور قرآن کے الفاظ میں جو حکمراں اللہ کے حکم کے خلاف فیصلے کریں وہ یقینا ظالم ہیں۔ ومن لم یحکم بما اُنزل اللہ فاولآئک ھم الظالمون (سورئہ المائدہ آیت 35) پھر اگر کوئی کرائے کے مولوی (جو ہر دور میں ظالم حکمرانوں کی حمایت کے لیے ایمان فروشی کے لیے تیار رہتے ہیں) سوال کریں کہ قرآن میں شادی کو بلوغت سے کس آیت میں منسلک کیا ہے تو مردانِ حق کے پاس واضح جواب ہوگا۔ وَمَا آتَاکْمْ الرَّسْولْ فَخْذْوہْ وَمَا نَھَاکْم عَنہْ فَانتَھْوا۔ یعنی رسول جو حکم دے وہ قبول کرو (سورہ الحشر7) اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔ نیز من یطیع الرسول فقد اطاع اللہ (سورہ النسا آیت 8) یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔