اُنیس سوا کہترکا تناظر !!

109

جلال نُورزئی

وزیراعظم عمران خان نے پانچ مئی کو جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ’’ملک کو فوج نہیں عوام متحد رکھتے ہیں، پاکستان کا نظریہ پیچھے چلا گیا تو پاکستان ٹوٹا‘‘۔ وزیراعظم کی یہ بات سو فی صد درست ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کے اندر عوام کے نمائندوں اور محافظوں نے اپنی ذمے داری کماحقہ ادا نہیں کی۔ نتیجتاً ملک بحرانوں کے گرداب میں رہا ہے۔ یہاں تک کہ مملکت دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ ملک کی تقسیم کی بات کی جائے تو سچی بات یہ ہے کہ ذمے داری کا احساس دکھائی نہیں دیا۔ اقتدار جنرل یحییٰ خان کے ہاتھ میں تھا۔ سیاسی حلقوں نے پنپتی وبدلتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی جس پر کان نہ دھرا گیا۔ جماعتیں اور حلقہ ہائے اثر ایسے بھی تھے کہ جو مشرقی پاکستان کے اندر پُر تشدد سیاست پر خوشی سے نہال بغلیں بجارہے تھے۔ چناں چہ عوامی لیگ کی سفاکیت میں پھیلائو و تیزی آتی رہی۔ مخالف سیاسی جماعتوں کو گویا ملک کے مشرقی حصے میں یرغمال بنائے رکھا۔ بھارت اس منظر نامے میں چھپ چھپ کر، بڑی حکمت اور ہنر مندی سے بنگالیوں کو گوریلا جنگ کے رموز سکھاتا رہا اور ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو عسکری تربیت دے کر پورے مشرقی پاکستان میں پھیلا دیا۔ ایسٹ پاکستان رائفلز، ایسٹ پاکستان رجمنٹ، پولیس اور دوسری فورسز کے بنگالی اہلکار مکتی باہنی کا حصہ بن گئے۔ اس طرح عوامی لیگ نے پورے بنگال کو سفاک مسلح کیمپ میں تبدیل کردیا۔ سبوتاژ، سول نافرمانی کے ساتھ سرکار کی پوری مشنری مفلوج کردی۔ فوج نے مارچ 1971ء کو حرکت کی، چھائونیوں سے نکل آئی۔ یقینا مسلح باغیوں پر قابو پالیا گیا۔ مگر بھارت کی کھلی مداخلت اور حملے کی وجہ سے حالات کی باگیں فوج کے ہاتھوں سے نکلتی رہیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے مشرقی پاکستان کے حالات اور واقعات کی خبروں پر پابندی لگادی۔ مقصد یہ تھا کہ مغربی پاکستان میں بنگالی عوام کے خلاف اشتعال پیدا نہ ہوں۔ مشرقی پاکستان میں جنرل ٹکا خان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو نکال دیا۔ ان دو فیصلوں و اقدامات کا فائدہ بھارت اور عوامی لیگ نے اٹھالیا۔ یوں رپورٹنگ اور پروپیگنڈا یکطرفہ ہوگیا۔
دراصل یحییٰ خان کی حکومت مشرقی حصے میں انتخابات شفاف کرانے میں ناکام ہوگئی تھی۔ عوامی لیگ اپنے دائو پیچ، مارو اور جلائو کی سیاست میں پوری طرح آزاد تھی۔ اس طرح انتخابات میں من مانا نتیجہ حاصل کر لیا۔ دوسری جماعتیں ان کی بد معاشی کے آگے بے بس تھیں۔ مکتی باہنی نے فوجی ایکشن سے پہلے وحشت، سفاکیت، ظلم و جبر کی کاروائیاں شروع کردی تھیں۔ مشرقی پاکستان کے 110 شہروں میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی، پشتون، سندھی، اردو بولنے والے خاص کر بہاریوں اور ان بنگالی عوام و سیاسی کارکنوں کا قتل عام شروع کیا، جو علیحدگی اور بھارتی مداخلت کے خلاف تھے۔ ہزاروں بوڑھے جوان بچے اور عور تیں موٹ کے گھاٹ اتارے گئے، ہزاروں عورتوں کی آبرویزری کی گئیں۔ املاک و جائداد نذر آتش کردی گئیں، قیمتی اشیاء لوٹی گئیں۔ صاحب حیثیت یہاں تک کہ متوسط طبقے کے افراد کو اغواء کرکے تاوان طلب کرتے، رقم یا دوسری قیمتی اشیاء مل جانے کے بعد بھی ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ مردوں کو قتل کرتے ان کی جوان خواتین کو لے جاکر عصمت دری کرتے۔ یہاں تک اطلاعات آئی ہیں کہ بہت ساری جوان لڑکیاں بھارت کے بدکاری کے بازاروں میں فروخت ہوئیں۔ جگہ جگہ مکانات، تعلیمی اداروں، کھیتوں، جنگلوں، شاہراہوں، کارخانوں اور جوہڑوں میں لاشیں بکھری پڑتی ہوتیں۔ قتل کے بعد سمندر ودریائوں میں لا شیں پھینکی جاتیں۔ مقتل بنا رکھے تھے جہاں غیر بنگالیوں کو انسانیت سوز تشدد کرکے زندگی کا خاتمہ کرتے۔ ان جگہوں میں لوگوں کااجتماعی قتل کیا جاتا۔ مکتی باہنی ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس تھی۔ مسجدوں میں پناہ لینے والوں کو وہیں بھون ڈالتے۔ حاملہ خواتین کے جیتے جی پیٹ چاک کرتے۔ برہنہ عورتوں سے پریڈ کرائی جاتی۔ انہیں دوڑنے پر مجبور کیا جاتا۔ غیر بنگالیوں کو پناہ دینے والے بنگالیوں کی سزا بھی موت تھی۔ بنگالی تاجروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ غیر بنگالیوں کو کھانے پینے کی چیزیں فروخت نہ کریں۔ مسجدوں میں نماز پڑھتے غیر بنگالیوں کو خون میں لت پت کردیتے۔ ضلع بوگرا کے علاقے ’’سنتھار‘‘ کی ایک مسجد میں پناہ گزین ستر سے زائد عورتوں کی عزت اللہ کے گھر ہی پامال کی گئی۔ یہ شرم ناک عمل عوامی لیگ کے ہندو باغیوں نے کیا۔
(25مارچ 1971ء) ایوننگ اسٹار واشنگٹن نے 12مئی1971ء کی اشاعت میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکا کی رپورٹ شائع کی جس میں لکھا گیا کہ ’’چٹاگانگ کے ایک علاقے کے رہائشیوں نے ایک عمارت کی نشاندہی کی جہاں بنگالی قوم پرستوں نے 350پشتونوں کو زندہ جلادیا تھا۔ ان افراد کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا‘‘۔ دیناج پور میں سفاکیت کی ایک اور رات میں اڑھائی سو پشتون مرد عورتوں اور بچوں کو باندھ کر بڑی بے دردی سے مار ڈالا۔ پیش ازیں 1954ء میں بھی فسادات کے دوران غیر بنگالیوں کو انسانیت سوز سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ٹکا خان کی حماقت کے باوجود مغربی، امریکی و دوسری غیر ملکی میڈیا نے بعد ازاں اصل حقائق دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کردیے۔ رفتہ رفتہ بنگلا دیش کے اندر سے وہاں کے صحافیوں اور دانشوروں نے تصویر کا دوسرا رخ دکھانا شروع کردیا۔ اور پتا چلا کہ دراصل قاتل کون اور مظلوم کون تھے۔ ڈھاکا کے ’’پوربودیش‘‘ اور ماسکو کے ’’پراودا‘‘ اخبار نے سقوط کے بعد سر خیاں جمائیں کہ بنگلا دیش میں پاکستان کی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کو قتل اور دو لاکھ خواتین کی عصمت دری کی۔ اس سفید جھوٹ اور بے تکے دعوے کو عوامی لیگ اور بھارت کی سرکاری مشنری نے دنیا بھر میں پھیلا دیا۔ معروف بنگالی حریت پسند رہنماء سبھاش چندرا بوس کی بھتیجی ڈاکٹر شرمیلا بوس لکھتی ہیں کہ ’’پاکستانی فوج نے ایک منظم قوت کے طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دی جس میں عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا اور پاکستان کی فوج نے عورتوں کو یکسر نظر انداز کرکے صرف مقابلہ (باغیوں) کرنے والے جوانوں کو نشانہ بنایا۔ واضح ہو کہ مغربی پاکستان کی بعض جماعتوں نے ان تمام مبالغہ آرائی اور بے سرو پا پروپیگنڈے اور کذب کو آگے بڑھایا۔ جو اس منظر نامے میں یقینی طور پر اپنی منزل دیکھتی رہیں۔ عوامی لیگ کی امروز کی سیاست بھی دائو گیر اور تشدد پر مبنی ہے۔ بنگلا دیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنماوں سمیت ہزاروں کارکن جیلوں میں ٹھونسے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے صف اول کے کئی قائدین کو پھانسیاں دی گئیں۔ الغرض پاکستان کے اندر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں اور حکمران جماعت کے درمیان بعد المشرقین ہے۔
اکہتر کا سانحہ عظیم کہتا ہے کہ انتقام کی سیاست کے بجائے حالیہ درپیش سیکورٹی و سیاسی اٹھان پر توجہ دی جائے۔ سیاست و نظام کو خالص اور شفاف بناکر جمہور کی رائے و طاقت سے اس جڑ پکڑتی صورتحال سے نبرد آزما ہوں۔ سیاسی حالات موافق ہوں گے تو قوم متحد ہو گی۔ ہر ریاست مخالف بیانیے کا جواب حکومتی و سیاسی صفوں سے دیا جائے۔ اس نئے بیانیے کے لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان پر ہاتھ ڈالا جائے۔ اور پھر یقینی طور پر چیخنا چلانا شروع کردیں گے کہ ہزاروں قتل اور سیکڑوں عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ کہ یہی ’’را‘‘ اور ’’این ڈی ایس‘‘ کی منصوبہ بندی ہے۔ چین کے آنجہانی وزیر اعظم چو این لائی نے کہا تھا کہ ’’مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی ذرائع بہت اہم ہوتے ہیں، فوجی حل عارضہ ہوتے ہیں‘‘۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ سیاسی اختلاف پالنے کے لیے بدی کو گلے لگائیں۔