(رمضان المبارک … نواں سبق (السلام علیکم

91

عتیق الرحمن خلیل

’’اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کا اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح‘‘۔ (النساء: 86)
اسلامی معاشرے میں ’’السلام علیکم‘‘ کی اہمیت: ہر معاشرے میں کچھ ایسے دعائیہ کلمات مروج ہوتے ہیں جو معاشرے کے افراد آپس میں ملتے جلتے وقت تعارف، اظہار محبت و اعتماد اخوت و مودت اور علامت وحد تفکر و عقیدہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ معاشرتی اتصال و ارتباط کے نقطہ نظر سے ان کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ معاشرے کے افراد، خواہ ان کے اندر کتنی ہی دوری و بے گانگی ہو، آمنے سامنے ہوتے ہی ان کے واسطے سے اس طرح باہم ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں گویا ان کے درمیان کوئی اجنبیت و بے گانگی تھی ہی نہیں۔ عربوں میں اس مقصد کے لیے بہت سے الفاظ اور فقرے معروف تھے۔ مثلاً ’’حیاک اللہ، اہلاً و سہلاً مرحبا‘‘ وغیرہ۔ سلام کا لفظ بھی معروف تھا۔ جب اسلامی معاشرہ ظہور میں آیا تو بجز ان کلمات کے جن میں شرک کی کوئی آلائش تھی، باقی تمام پاکیزہ کلمات باقی رہے البتہ ’’السلام علیکم‘‘ کو ایک خاص اسلامی شعار کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ یہ کلمہ گویا مومن و کافر کے درمیان ایک فرق کی علامت بن گیا۔ الغرض یہ سلام اور جواب سلام کا معاملہ کوئی رسمی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ اسلامی معاشرہ میں یہ وصل و فصل کی بنیاد تھا۔ اس وجہ سے قرآن نے اہمیت کے ساتھ اس کو بیان فرمایا اور تنبیہ فرمائی کہ خدا ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے اور قیامت کے دن سب کو اپنے اعمال و اقوال کی جواب دہی کرنی ہے۔
عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہؐ کے پاس آیا تو اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہا۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اس کو دس نیکیاں ملیں‘‘۔ پھر ایک اور شخص آیا۔ اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا۔ آپ نے اسے جواب دیا۔ پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا۔ نبی کریم نے فرمایا: ’’اس کو بیس نیکیاں ملیں‘‘۔ پھر ایک اور شخص آیا۔ اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔ آپ نے اسے بھی جواب دیا۔ پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اس کو تیس نیکیاں ملیں‘‘۔ (ابو دائود)
سیدنا ابو امامہؓ کی روایت میں ارشاد نبوی ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (ابو دائود)
آپؐ کا صحابہؓ سے ربط و تعلق: نبی کریمؐ نے صحابہ کرام کی اصلاح و تربیت کے سلسلے میں عام سماجی رابطے سے بڑا کام لیا۔ آپؐ نے انسانوں سے عموماً اور اپنے اصحاب سے خصوصاً بہت قریبی ربط و ضبط رکھا۔ دیکھا گیا ہے کہ اصلاح و تربیت کا کام کرنے والے اپنے کو سنبھال کر اور عوام سے کاٹ کر رکھتے ہیں لیکن رسول خدا ؐ مقام نبوت پر فائز ہونے کے باوجود عوامی حلقوں سے گہرا ربط رکھتے تھے۔ تربیت کے سلسلے میں انسان کے ذاتی تعلقات اور سماجی روابط کا بڑا اثر پڑتا ہے۔ اصلاح و تربیت کا فریضہ انجام دینے والوں کی ذمے داری قرار پاتی ہے کہ اپنے زیرتربیت افراد اور سماج کی اکائیوں سے زیادہ سے زیادہ گہرا تعلق پیدا کریں۔ غمزدوں کے زخموں پر پھایا رکھیں، گرتے ہوئوں کو سہارا دیں، قرض کے بوجھ کے نیچے دبنے والوں کو اس بوجھ سے نجات دلائیں۔ غریب الدیار اور پردیسی کے لیے ٹھکانا فراہم کریں۔ ناخواندہ کو زیورتعلیم سے آراستہ کریں۔ کمزوروں اور زیردستوں کو اوپر اٹھانے کی کوشش کریں۔ پھر دیکھیے کہ کردار کس طرح تربیت میں اہم رول ادا کرتا ہے۔
سیرت و احادیث کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ آپؐ ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ اپنے کسی عمل یا روش سے یہ ظاہر بھی نہ ہونے دیتے کہ آپؐ اپنے کو کسی سے بالاتر سمجھتے ہیں۔آپؐ کا معمول تھا کہ راستے میں ملنے والوں کو سلام کرتے، سلام کرنے میں پہل کرتے۔ ایک بار بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو ان کو سلام کیا۔ ایک مرتبہ عورتوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اور گھر سے نکلتے ہوئے گھر کے افراد کو سلام کرتے۔ کوئی ساتھی کئی دن کے بعد ملتا تو اس سے معانقہ بھی کرتے۔ کبھی کبھی پیشانی چوم لیتے۔ رخصت کرتے ہوئے دعا میں یاد رکھنے کی درخواست کرتے۔ احباب سے مصافحہ بھی کرتے اور اس وقت تک اپنا ہاتھ نہ کھینچتے جب تک دوسرا ہاتھ نہ کھینچ لیتا۔
کسی کو کوئی پیغام پہنچانا ہوتا تو سلام ضرور کہلاتے۔ احباب اور رشتہ داروں کو ہدیے دیتے، ان کے ہدیے بھی شکریہ کے ساتھ قبول کرتے اور فرماتے۔ ’’ہدیہ دینے اور لینے سے محبت بڑھتی ہے‘‘۔
ایک روزہ ایک نیکی: سلام میں پہل کرنا: دنیا کے تمام مذاہب میں ملاقات کے وقت پر کچھ الفاظ اور اشارے مخصوص ہیں۔ بعض لوگ جھک کر تعظیم کرتے ہیں۔ بعض صرف ہاتھ کے اشارے سے اور بعض مذاہب کے اپنے مخصوص الفاظ ہوتے ہیں۔ شریعت اسلامیہ نے امت مسلمہ کے لیے ملاقات کے وقت جو دعائیہ کلمات مقرر کیے ہیں وہ انتہائی عظیم ہیں یعنی ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘۔
’’السلام علیکم‘‘ اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ نبی کریمؐ نے سلام میں پہل کرنے والے کو اللہ سے قریب تر قرار دیا۔
عام طور پر ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ صرف جاننے والوں کو سلام کیا جاتا ہے جبکہ صحیح طریقہ اس کے برعکس ہے۔
’’ایک شخص نے نبیؐ سے پوچھا کہ مسلمان کے لیے کون سے اعمال بہترین ہیں۔ تو آپؐ نے جو اعمال شمار کیے ان میں سے یہ بھی تھا کہ ’’لوگوں کو سلام کرنا چاہیے، خواہ تم انہیں پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو‘‘۔ (بخاری و مسلم)
گھر میں داخل ہونے والے کے لیے گھر کے افراد کو سلام کرنا سنت ہے۔ آپؐ نے اپنے خادم خاص سیدنا انسؓ سے فرمایا تھا کہ: ’’جب گھر میں داخل ہو تو سلام کرو، یہ عمل تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے لیے باعث برکت ہوگا‘‘۔ (ترمذی)