سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے دروازے صحافیوں پر بند

44

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمہوری حکومت کی تشکیل کردہ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دروازے صحافیوں پربند کردیے گئے،اپوزیشن کی شرکت کے بغیر سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بند کمرے میں ہونے والے پہلے اجلاس میں صحافیوں کورپورٹنگ کی اجازت نہیں دی گئی،جیل سے اجلاس میں شرکت کے لیے ا?نے والے شرجیل میمن اسمبلی چیمبرمیں نیند پوری کرکے جیل واپس لوٹ گئے،رکن سندھ اسمبلی فریال تالپورنے بھی شرکت نہیں کی۔سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں صحافیوں کو اجلاس کی کوریج اورمانیٹرنگ کی اجازت نہیں دی گئی اوربند کمرے میں ہونے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں صحافیوں کواجلاس کی کوریج اورمانیٹرنگ سے یہ کہہ کرروک دیا گیا کہ پی اے سی کے چیئرمین غلام قادر کی طرف سے صحافیوں کواجلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔پی اے سی کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین غلام قادر چانڈیو، گھنور اسران، قاسم سراج سومرو و دیگر نے شرکت کی جبکہ پی اے سی کے رکن شرجیل میمن جنہیں جیل سے اجلاس میں شرکت کے لیے سندھ اسمبلی لایا گیا تھا ،انہوںنے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی اوروہ سندھ اسمبلی کے ایک چیمبرمیں اپنی نیند پوری کرکے واپس جیل روانہ ہوگئے، اسی طرح کمیٹی کی سب سے اہم ترین رکن فریال تالپورنے بھی پہلے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔پی اے سی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین غلام قادر چانڈیو نے صحافیوں کواجلاس کی کوریج نہ کرنے کا معاملہ گول کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں 2009 اور 2010 کے آڈٹ پیراز پرغورکیا گیا اجلاس میں محکمہ داخلہ سندھ کے مالی سال 2009 اور2010 کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا اورپی اے سی نے سکھر میں ایک اہلکارلیاقت عباسی کے جعلی دستخط کے ذریعہ 9 لاکھ 65 ہزار کی کرپشن کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اورحکام کوہدایت کی گئی ہے فوری طورپرفنڈزکی ریکوری کی جائے۔کمیٹی کے رکن سراج قاسم سومرو کا کہنا تھا کہ پی اے سی نے 2016 میں سابقہ پی اے سی میں رہ جانے والے کچھ پیراز ریفرکیے تھے ان کا بھی جائزہ لیا گیا ہے محکمہ داخلہ میں مالی بے ضابطگیوں پر اینٹی کرپشن کو کاروائی کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کے جوفنڈز کرپشن کی نذرہوئے ہیں ان کی واپسی کے لیے اقدامات کریں گے پولیس کو چاہیے کہ قواعد وضوابط پرعملدرآمد کرے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کے ارکان کی عدم شرکت پرچیئرمین پی اے سی غلام قادرچانڈیو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے بغیر مالی بے ضابطگیوں پرمبنی بجٹ پیرا پربحث درست نہیں مگر اپوزیشن ضد پر قائم ہے اس کے بغیر پی اے سی کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی۔انہوںنے کہا کہ آڈٹ قانون کے مطابق کیا جائے گا،حکومت اپنے مینڈیٹ سے دستبردارنہیں ہوگی ۔