عالمی یوم خواتین پر غیر اسلامی و غیر اخلاقی مارچ کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

78

اسلام آباد (اے پی پی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اجتماع کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔منگل کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی ۔دوران سماعت ایڈووکیٹ عبدالرحمن ناصر عدالت میں پیش ہوئے ۔ دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیمرا اور پی ٹی اے کو درخواست دی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جی بالکل پیمرا کو درخواست دی ہے اور کیس کے ساتھ منسلک ہے۔ فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا خواتین مارچ میڈیا اور سوشل میڈیا میں چلایا گیا۔درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ جی بالکل میڈیا نے چلایا ہے اور اس وقت بھی سوشل میڈیا میں موجود ہے ۔دائر درخواست میں وفاق، پیمرا، نادرا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ خواتین کے عالمی دن پر چند خواتین کی جانب سے ایک قابل اعتراض مارچ کا انعقاد کیا گیا،اس قسم کے مارچ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی ہوئے، واک کے شرکا نے اسلامی روایات اور اقتدار کی تذلیل کی جس سے عوامی جذبات مجروح ہوئے،مارچ کے شرکا نے انتہائی غیر اخلاقی اور غیر اسلامی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، خواتین کی جانب سے متنازع مارچ کا انعقاد اور پلے کارڈز کی تشریح غیر اسلامی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے، اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی تھی۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔