ہماری ایمنسٹی حرام عمران خان کی حلال ہے،ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے اسکیم مسترد کردی

81
اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد(آئی این پی،نمائندہ جسارت)ہماری ایمنسٹی حرام اور عمران خان کی حلال ہے۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اسکیم مسترد کردی۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنماء سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ کابینہ کی جانب سے ایمنسٹی کی منظوری کا معاملہ تشویشناک ہے۔ عمران خان وہی سب کر رہے ہیں جس پر وہ ماضی میں تنقید کیا کرتے تھے۔کہا جاتا تھا ایمنسٹی اسکیم چوروں اور ڈاکوئوں کے لیے ہے۔ بتایا جائے اب ایمنسٹی اسکیم کا فائدہ کس کو ہوگا؟ آئی ایم ایف معاہدے میں این ایف سی کا ذکر انتہائی تشویشناک ہے۔ این ایف سی ایک آئینی معاملہ ہے۔ این ایف سی میں ردو بدل کا معاملہ آئی ایم ایف سے کیسے ڈسکس کیا گیا؟۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم سے متعلق صرف اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ نیت صاف ہے تو صرف اتحادی جماعتوں کو ہی کیوں اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت ہر معاملے پر پارلیمنٹ سے دور کیوں بھاگ رہی ہے۔ وزیراعظم پارلیمنٹ سے کیوں منہ چھپا رہے ہیں۔ عمران خان اپنے ہی دعوئوں کے برعکس اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ حکومتی اقدام منافقت کی بدترین مثال ہے۔ پاکستان کی عوام قیمتوں کی سونامی میں دبی چلی جا رہی ہے۔علاوہ ازیں رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم حرام اور عمران خان کی حلال ہے۔اسلام آباد میں مریم اورنگزیب اور احسن اقبال کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کابینہ سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانا بناتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم حرام اور عمران خان کی حلال ہے۔ عمران خان کی کرپشن حلال جب کہ کسی اور کا کام ٹھیک نہ ہونا حرام ہے۔ ایک سال پہلے مسلم لیگ (ن) کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم بری اور آج عمران خان کی ٹھیک ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب ہم ایمنسٹی اسکیم لائے تو عمران خان اور اسد عمر نے لعنتیں بھیجیں۔ ہماری ایمنسٹی اسکیم اصلاحاتی پیکیج تھا۔ ہر سال ایمنسٹی اسکیم نہیں لائی جاتی۔رہنما مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی انتقام میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ پہلے نیب تھی اب ایف آئی اے بھی سامنے آئی ہے۔ حکومتی ادارے سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہورہے ہیں، حکومت سے مل جائیں تو چوری معاف ہوجاتی ہے۔ عمران خان کے رشتے د اروں کونوازنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم لائی جا رہی ہے۔آئی ایم ایف سے سودا کرلیا۔ملک میں بدترین مہنگائی آئے گی اس میں کسی کو شک نہیں ہے۔جنھوں نے آٹھ ماہ میں ملک کا یہ حال کر دیا سوچیں پانچ سال میں کیا کردینگے۔لوگوں کوٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دی جاتی ہے،یہ راستہ تباہی کاہے ماضی میں مشکل سے اس سے نکلے تھے۔پہلی بار معاون خصوصی وزارت اطلاعات چلارہا ہے۔پرویز خٹک نے کے پی میں کیا کیا۔ایک وزیر دواں کے پیسے کھا گیا۔وزارت اطلاعات چلانے کیلیے ان کو نہ پارٹی میں کوئی ملا نہ حکومت میں۔،دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اللہ انہیں ہدایت دے اور ملک کو ان سے بچائے۔حکومت مطمئن ہے۔وزیراعظم کہتا ہے حکومت چلانا آسان ہے۔آئین کے مطابق حکومت کے پاس 5 سال ہیں ،ہم ملک میں آمریت نہیں چاہتے۔،کیا عوام اس حکومت کو پانچ سال دینے کے متحمل ہو سکتے ہیںجنھوں نے آٹھ ماہ میں یہ حال کر دیا ۔سوچیں پانچ سال میں کیا کردینگے۔دہشت گردی دوبارہ ملک میں شروع ہو گئی ہے۔حکومت کو زحمت نہ ہوئی کہ کوئٹہ دہشت گردی پربات کرتے۔ہرسال ٹیکس چوروں کو موقع نہیں دینا چاہیے۔